باب مایقول اذا قام من اللیل

باب جب رات میں اٹھے تو کیا کہے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اگرچہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سانس اﷲ کے ذکر میں نکلتی تھی مگر تہجد کو اٹھتے وقت بڑے پیارے پیارے ذکر فرماتے تھے کہ وہ وقت خصوصیت سے قبولیت کا ہے اور رحمت الٰہی کے ظہور کا،یہاں وہ ذکر و دعائیں بیان ہوں گی جو نماز تہجد سے پہلے پڑھتے تھے ان کا کچھ ذکر پہلے باب میں بھی ہوچکا ہے اس باب میں تفصیلًا ذکر ہوگا لہذا یہ مکرر نہیں کہ وہاں اجمالی تھا،یہاں تفصیلی وہاں تبعًا تھا یہاں قصدًا۔

حدیث نمبر 437

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے الہی تیرے لیئے حمدہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا قائم رکھنے والا ہے ۱؎ تیرے ہی لیئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا نور ہے ۲؎ اور تیری ہی حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا بادشاہ ہے ۳؎ اور تیری ہی حمد ہے تو حق ہے ۴؎ تیرا وعدہ حق ہے،تجھ سے ملنا حق ہے اور تیری بات حق ہے ۵؎ جنت حق ہے آگ حق ہے،نبی حق ہیں،جناب محمد حق ہیں۶؎ قیامت حق ہے،اے اﷲ تیرے لیئے میں اسلام لایا تجھ پر ایمان لایا ۷؎ اور تجھ پر میں نے بھروسہ کیا اور تیری طرف میں نے رجوع کیا ۸؎ تیرے بھروسے پر میں کفار سے لڑتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں ۹؎ میرے اگلے پچھلے چھپے کھلے بخش دے اور وہ بخش جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے بڑھانے والا ہے ۱۰؎ اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے ۱۱؎ تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ دعائیں نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے ہیں وضو مسواک کے بعد یا ان سے بھی پہلے۔قیم قیوم مبالغہ کے صیغے ہیں یعنی آسمان و زمین اور ان کی مخلوق،جن و انس و فرشتوں وغیرہ کو قائم رکھتا ہے کہ ان سب کی بقا تیرے کرم سے ہے یعنی ان کا موجب بھی تو،باقی رکھنے والا بھی تو،اب ورب میں یہ فرق ہے۔

۲؎ یعنی ان کو عدم کی تاریکی سے وجود کا نور دینے والا تو،یا چاند و سورج اور تاروں کے ذریعے انہیں ظاہری نور دینے والا بھی تو ہے اور انبیاء اولیاء اور علماء کے ذریعہ باطنی نور دینے والابھی تو ہے یہاں نور بمعنی منور ہے،رب فرماتا ہے:”اَللہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ”۔

۳؎ حقیقی و دائمی بادشاہی ہے تیری عطا سے عارضی و چند روزہ بادشاہ تیرے بعض بندے ہیں چنانچہ دنیا میں صدہا بادشاہ گزرے جن کے نام و نشان نہ رہے۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری خلق کا دائمی سلطان بنایا مگر یہ سلطنت عارضی و عطائی ہے رب تعالٰی کی حقیقی و ذاتی۔

۴؎ یعنی تو ثابت ہے دائم ہے تیرے لیئے فنا نہیں کہ حق کے ایک معنے یہ بھی ہیں یعنی زائل وفانی کا مقابل دوسرے معنے ہیں باطل و غلط کا مقابل یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔

۵؎ یہاں حق باطل کے مقابل ہے یعنی تیرا وعدہ اور وعید سچے ہیں اور ہم سب کا تیری بارگاہ میں حاضر ہو کر حساب دینا برحق ہے،تیرے سارے فرمان سچے ہیں تیرے کلام میں جھوٹ کا احتمال نہیں۔خیال رہے کہ صادق وہ کلام ہے جو واقعہ کے مطابق ہو اور حق وہ کلام کہ واقعہ اس کے مطابق ہو،بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں لقاسے مراد دیدار الٰہی ہے۔

۶؎ اگرچہ نبیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں،نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت پر سارے نبیوں کی حقانیت موقوف ہیں کیونکہ ان سب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور حقانیت کی بشارتیں دی تھیں،نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا بھر سے ان سب کی حقانیت کا اقرار کرالیا اس لیئے خصوصیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علیحدہ ذکر ہوا۔خیال رہے کہ نبیوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کی ذات ان کی صفات اور سارے حالات حتی کہ ان کی خطائیں و لغزشیں بھی حق ہیں کہ اس پر ہزار ہا حق مرتب ہوتے ہیں۔

۷؎ یعنی ظاہر و باطن میں تیرا مطیع ہوں اور تیرے سارے احکام کو حق سمجھتا ہوں،ایمان و سلام کا فرق کتاب الایمان کے شروع میں بیان ہوچکا۔

۸؎ صوفیا فرماتے ہیں کہ گناہوں سے باز آجانا توبہ ہے اور غفلت سے باز آکر بیدار ہوجانا انابت،شریعت والوں کا تو کل یہ ہے کہ اسباب پر عمل اور “مُسَبِّبَ الْاَسْبَابْ” پر نظرطریقت و الوں کا توکل یہ ہے اسباب کی آڑ کو پھاڑ دینا اور یار تک پہنچ جانا۔

۹؎ یعنی تیرے لیئے میرا جہاد ہے اور جہاد میں تیری مدد پر نظر ہے میرا اور کفار کا فیصلہ تو فرما کر میرا سچ اور ان کا جھوٹ ظاہر فرمادے۔

۱۰؎ نہایت جامع استغفار ہے جس میں ہر قسم کی غلطیوں گناہوں کا ذکر آگیا،یہ سب کچھ ہماری تعلیم کے لیئے ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک گناہوں کی رسائی نہیں وہ گناہ کرنیکے لیئے پید ا نہیں ہوئے بلکہ گنہگاروں کی دستگیری کرنے کے لیئے تشریف لائے۔

۱۱؎ تو نے اپنے فضل و کرم سے مجھے درجہ میں سب سے آگے رکھا اور زمانہ میں سب نبیوں سے پیچھے یا آخرت میں تو نے مجھے سب سے آگے رکھا اور دنیاوی ظہور میں سب سے پیچھے یا تو نے میری امت کو ساری امتوں سے درجوں میں آگے بڑھادیا اور دنیوی ظہور میں سے پیچھے رکھا اس کی تفسیر وہ حدیث ہے “نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ”۔(از مرقات)اس جملہ کی اور بہت تفسیریں ہیں۔

۱۲؎ اس کے پہلے جملہ میں غیر سے الوہیت کی نفی ضمنًا ہے دوسرے میں صراحتًا۔