أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان لوگوں کو اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جائے تو وہ ان آیتوں پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان لوگوں کو اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جائے تو وہ ان آیتوں پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ (الفرقان : ٧٣)

قرآن مجید کو غفلت اور بےپرواہی سے سننے کی مذمت 

اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ان کے سامنے جب قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ آخرت اور حشر کے دن کو یاد کرتے ہیں اور قرآن کریم کو غفلت سے نہیں سنتے۔

(٢) وہ کفار کی طرح قرآن سے اعراض کرتے ہوئے بہیر اور اندھے ہو کر قرآن کریم کو نہیں سنتے۔

(٣) جب ان کے سامنے اللہ کی ایٓات کو تلاوت کیا جاتا ہے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور وہ روتے ہوئے سجدہ میں گرجاتے ہیں اور ان آیات پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

(٤) ایسا نہیں ہوتا کہ قرآن مجید سننے کے باوجود وہ پہلی حالت اور اسی کیفیت میں بیٹھے رہیں اور ان پر قرآن کریم کی تلاوت کا کوئی اثر نہیں ہوا ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 73