بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحٰطَتْ بِہٖ خَطِیۡٓـئَتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۸۱﴾ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ٪﴿۸۲﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔

ترجمۂ کنزالعرفان:کیوں نہیں ، جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کرلیا تو وہی لوگ جہنمی ہیں ، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔
{بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحٰطَتْ بِہٖ خَطِیۡٓـئَتُہٗ: کیوں نہیں ،جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کر لیا۔} اس آیت میں گناہ سے شرک و کفر مراد ہے اور احاطہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ نجات کی تمام راہیں بند ہوجائیں اور کفر و شرک ہی پر اس کو موت آئے کیونکہ مومن خواہ کیسا بھی گنہگار ہو گناہوں سے گھرا نہیں ہوتا اس لیے کہ ایمان جو سب سے بڑی نیکی ہے وہ اس کے ساتھ ہے۔