۱۰۳۔ عن حکیم بن حزام قال : کان محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أحب رجل فی الناس اِلی فی الجاہلیۃ، فلما تنبأ و خرج اِلی المدینۃ شہد حکیم بن حزام الموسم و ہو کافرفوجد حلۃ لذی یزن تباع فاشتراہا بخمسین دینارا لیہدیہا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقد م بہا اِلی المدینۃ فأرادہ علی قبضہا ہدیۃ فأبی ، قال عبید اللہ : حسبت أنہ قال: اِنَّا لاَ نَقبَلُ شَیْئًا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ،وَ لٰکِنْ اِنْ شِئْتَ أخَذْنَا ہَا بِالثَّمَنِ ، فأعطیتہ حین أبی علی الہدیۃ ۔فتاوی رضویہ حصہ او ل ۹/۹۴

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایام جاہلیت میں مجھے سب سے زیادہ عزیز و محبوب تھے ۔ جب حضور نے اعلان نبوت فرمایااور مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی تو میں حالت کفر ہی میں موسم حج میں گیا، وہاں میں نے یمن کے بادشاہ ذویزن کا لباس فروخت ہوتے دیکھا ۔ میں نے اسکو حضور کی خدمت میں ہدیہ کر نے کیلئے پچاس دینار میں خریدلیا ۔اسکو لیکر حضور کی خدمت میں مدینہ آیا تاکہ حضور اسکو بطور ہدیہقبول فرمالیں ۔ لیکن حضور نے انکار فرمادیا ۔ عبید اللہ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے خیال ہے کہ حکیم بن حزام نے کہا تھا: کہ حضور نے فرمایا: میں مشرکین سے کچھ نہیں لیتا۔ ہاں تم چاہوتوبطور قیمت ہم لے سکتے ہیں لہذا میں نے آپ کو قیمتاً پیش کردیا ۔ ۱۲م

]۶[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

اسی طرح اوربھی حدیثیں رد و قبول میں وارد ہیں ۔اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ یہ امر مصلحت وقت و حالت ہدیہ گیرندہ و آرندہ پر ہے ۔ اگر تالیف قلب کی نیت ہے اورامید رکھتا ہے کہ اس سے ہدایا و تحائف لینے دینے کا معاملہ رکھنے میں اسے اسلام کی طرف رغبت ہوگی تو ضرور لے ،اور اگرحالت ایسی ہے کہ نہ لینے میں اسے کوفت پہونچے گی اور اپنے مذہب باطل سے بے زار ہوگا تو ہر گز نہ لے ،اور اگر اندیشہ ہے کہ لینے کے باعث معاذ اللہ اپنے قلب میں کافر کی طرف کچھ میل یا اس کے ساتھ کسی امر دینی میں نرمی و مداہنت راہ پائے گی، اس ہدیہ کو آگ جانے اور بیشک تحفوں کا رغبت و محبت پیدا کرنے میں بڑا اثر ہوتاہے ۔فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۹۴

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۲۔المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۹/۱۸ ٭ المصنف لعبد الرزاق، ۵/۳۸۲

۱۰۳۔المنسد لاحمد بن حنبل ۳/۴۰۳ ٭ المستدرک للحاکم ، ۳/۲۰۲

مصنف ابن ابی شیبۃ ، ۱۲/۴۶۹ ٭ مجمع البحرین ، ۴/۱۵۱