أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِىۡ رَبِّىۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِىۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو جب مجھے تم سے خطرہ محسوس ہوا تو میں تمہارے پاس سے چلا گیا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں میں سے بن دیا

اس کے بعد حضرت موسیٰ نے فرمایا : سو جب مجھے تم سے خطرہ محسوس ہوا تو میں تمہارے پاس سے چلا گیا، اس قول سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی جب میں نے اس قبطی کو گھونسا مارا تھا اس وقت میں اس سے بیخبر تھا کہ میرا یہ گھونسا جان لیوا ثابت ہوگا، میرا یہ فعل زیادہ سے زیادہ سہو کے حکم میں تھا اور میں اس فعل کی وجہ سے مصر سے نکل جانے کا مستحق نہ تھا۔ اس کے باوجود جب میں نے سنا کہ تمہارے درباری مجھے قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں تو پھر میں مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چلا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وضاحت سے یہ بتایا کہ نہ میں نے کوئی ناشکری کی اور نہ تمہارا مجھ پر کوئی احسان ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے ساتھ بدسلوکی کی کیونکہ جو فعل مجھ سے سہواً سرزد ہوا تم نے اس کی وجہ سے میرے قتل کا منصوبہ بنایا۔

علم کے کمال کے بعد منصب نبوت عطا فرمانا 

اس کے بعد فرمایا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ تم نے تو میرے ساتھ بدسلوکی کی لیکن میرے رب نے مجھ پر احسان فرمایا بایں طور کہ مجھے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔

اس آیت میں حکم سے کیا مراد ہے اس میں دو قول ہیں،

ابن سائب نے کہا اس سے مراد نبوت ہے،

اور مقاتل نے کہا اس سے مراد فہم اور علم ہے۔ (زاد المسیر ج ٦ ص ١٢٠)

امام رازی نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد فہم اور علم ہے، کیونکہ نبوت کا ذکر تو اس کے بعد اس قول میں مذکور ہے اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا اور معطوف، معطوف علیہ کا غیر ہوتا ہے، پس حکم سے مراد علم اور فہم ہے، اور علم میں عقل اور رائے بھی داخل ہے اور اگر علم سے مراد توحید کا علم لیا جائے تو وہ زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس وقت تک کسی کو منصب نبوت پر فائز کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ اس کی عقل، رائے اور توحید کا علم کامل نہ ہوجائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 21