الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 443

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو تکبیر کہتے،پھر کہتے الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرا نام برکت والا ہے،تیری شان اونچی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎ پھر کہتے ا ﷲ بہت ہی بڑا ہےپھر کہتے مردود شیطان سے سننے والے،جاننے والے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے وسوسوں سے اس کی پھونک سے اس کے تکبر سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابوداؤد نے غیرك کے بعد یہ بھی زیادہ کیا کہ پھر تین بار لا الہ الا اﷲ کہتے اور آخر حدیث میں ہے پھر قرأت کرتے۔

شرح

۱؎ یہاں تکبیر سے مراد تکبیر تحریمہ ہے یعنی آپ تہجد کی نماز شروع فرما کر قرأت سے پہلے یہ ذکر کرتے جیسے اور نمازوں میں کیا جاتا ہے مگر اس نماز میں آیندہ کلمات اور زیادہ فرماتے۔خیال رہے کہ جد کے معنی عظمت ہیں یا جائے پناہ اسی لیئے مال کو بھی جد کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو عظمت ملتی ہے اور دادا کو بھی اس سے خاندانی عظمتیں قائم ہوتی ہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان بہکاتے وقت انسان پر پھونکیں مارتا ہے جس سے وسوسے اور ناجائز تکبر پیدا ہوتے ہیں کیونکہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور پھونک کو پھونک مٹاتی ہے اس لیئے مشائخ بھی شیطان وغیرہ کو دفع کرنے کے لیئے دم ہی کرتے ہیں۔پھونک کی تاثیریں اور فوائد ہماری کتاب “اسرار الاحکام”میں دیکھو