أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ نَادٰى رَبُّكَ مُوۡسٰۤى اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے موسیٰ کو ندا کی کہ آپ ظالم قوم کے پاس جایئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے موسیٰ کو ندا کی کہ آپ ظالم قوم کے پاس جایئے۔ جو کہ فرعون کی قوم ہے کیا وہ ڈرتے نہیں ہیں !۔ موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! مجھے خدشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے۔ اور میرا دل تنگ ہو رہا ہے اور میری زبانی (روانی سے) نہیں چل رہی، سو تو ہارون کی طرف (بھی) وحی بھیجے دے۔ اور ان کا مجھ پر ایک قصور کا الزام ہے سو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ (الشعراء 10-14)

گزشتہ رسولوں کے واقعات سناکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ قرآن مجید کی متعدد سورتوں میں بیان کیا گیا ہے وہ سورتیں یہ ہیں : البقرہ الاعراف، یونس، ہود، طہٰ ، الشعرائ، النمل، القصص، المومن، السجدۃ اور النازعات وغیرہ اور ان سورتوں میں مختلف اسالیب کے ساتھ اس قصہ کو مختلف حکمتوں سے بیان فرمایا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے معرکہ کو یہاں اس طور سے بیان فرمایا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے سخت رنج اور تکلیف ہوتی تھی کہ آپ نے بار بار کفار قریش کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر قرآن کریم میں جو دلائل پیش کئے ہیں وہ ان کو سنائے اور اپنے رسول ہونے پر علمی، عقلی اور حسی نشانیاں اور معجزات پیش کئے اور اس پیغام کو قبول نہ کرنے کی صورت میں عذاب الٰہی سے متعدد بار ڈرایا لیکن کفار قریش پر اس پیہم تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہوا، وہ بدستور اپنیح انکار پر جمے رہے اور آپ کی مخالفت پر ڈٹے رہے، اس صورتحال سے آپ کو اس قدر رنج ہوتا تھا کہ لگتا تھا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے کے غم میں گھل گھل کر اپنی جان دے دیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئییہ آیات نازل فرمائیں کہ آپ کو پیغام حق سنانے کی راہ میں کفار کی مخالفت کا جو سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے، پھر حضرت موسیٰ ، حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے واقعات سنائے اور یہ بتایا کہ ان رسولوں نے جب پیغام حق سنایا تو ان کو کتنی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود ان رسولوں کی امتوں سے بہت کم افراد ایمان لائے اور اکثر لوگ اپنے انکار اور تکذیب پر ڈٹے رہے، سو اگر آپ کی قوم کے اکثر افراد بھی آپ کی مخالفت کر رہے ہیں اور آپ پر ایمان نہیں لا ریہ تو اس پر رنج اور افسوس نہ کریں۔

سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ سنانے کی حکمت 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے انبیاء سابقین میں سے سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کئی وجوہ سے مناسبت ہے، اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ نہایت موزوں ہے کیونکہ متعدد وجوہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین سے زیادہ قوی تھے، زیادہ اثر و رسخ والے تھے، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے پر قادر تھے، حتیٰ کہ ان کے خوف کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے مدین کی طرف ہجرت کی جس طرح آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اور جیسے آپ کے متعدد معجزات دیکھنے کے باوجود کفار مکہ ایمان نہیں لائے ایسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعدد معجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم کے قبطی ایمان نہیں لائے اور جس طرح فرعون کی قوم کو سمندر میں غرق کردیا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیاب اور سخ رو فرمایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے متعدد غزوات میں کفار مکہ کو ذلیل و خوار کیا اور آپ کو فتح اور نصرت عطا فرمائی اور بالآخر پورا مکہ بلکہ پورا جزیرہ عرب آپ کے تابع اور آپ کا مطیع ہوگیا، اس لئے آپ ان وقتی مخالفتوں سے نہ گھبرائیں گبالآخر کامیابی اور غلبہ آپ ہی کو حاصل ہوگا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین کا زیادہ قوی ہونا 

ہم نے یہ لکھا ہے کہ کئی وجوہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین سے زیادہ قوی تھے کیونکہ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور اس کی قوم اس کو بادشاہ سے بڑھ کر خدا مانتی تھی۔ اس کے برخلاف آپ کے مخالف کفار مکہ تھے جو مختلف قبائل میں بٹے ہوئے تھے مکہ کا کوئی بادشاہ اور فرماں روانہ تھا، اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قبیلہ بنو ہاشم تھا اور یہ بہت معزز قبیلہ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعقل بنو اسرائیل سے تھا اور بنو اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم نے غلام بنایا ہوا تھا، اور بنو اسرائیل مصر میں محکومی اور پس ماندگی کی زندگی گزار رہے تھے، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے برسر اقتدار قوم کے ایک فرد کو قتل کردیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے اتنقام اور ظلم سے بچنے کے لئے مدین ہجرت کر گئے تھے ایسے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام نبوت پر فائز کیا اور فرعون کے دربار میں جانے کا حکم دیا۔ یہ بہت کٹھن اور جان گداز حالات تھے جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وقت ا کے ایک بداشاہ کے خلاف پغیام حق سنانے اور فرعون کے دعویٰ ربوبیت کے خلاف اللہ تعالیٰ کی توحید کا نعرہ بلند کیا۔ حضرت موسیٰ کی زبردست مخالفت کی گئی لیکن آپ توحید کا پیغام سنانے سے دست کش نہ ہوئے اور بالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمام تر بےسروسامانی کے باوجود کامیاب ہوئے اور فرعون اپنے جاہ و حشم کے باوجود ناکام رہا۔ سو آپ بھی کفار مکہ کی مخالفت سے نہ گھبرائیں اور ان کی دل آزار باتوں سے ملول خاطر نہ ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غلبہ عطا فرمایا تھا اس طرح آپ کو بھی کفار کے مقابلہ میں غلبہ عطا فرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 10