أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے

فرعون کی قوم میں سے ایمان لا نے والوں کا بیان

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے یعنی فرعون کی قوم میں سے کیونکہ فرعون کی قوم میں سے صرف چند افراد ایمان لائے تھے ایک آل فرعون سے مومن تھا جس کا نام حزقیل تھا دوسری اس کی بیٹی آسیہ تھی جو فرعون کی بیوی تھی اور تیسری مریم نا کی ایک بوڑھی عورت تھی جس نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی قبر کی نشاندہی کی تھی (زاد المسیرج ٦ ص ٨٢١‘ مطبوعہ بیرون ٧٠٤١ ھ ‘ الجامع لا حکام القرآن جز ٣١ ص ١٠١)

حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی قبر کی نشاندہی کی تفصیل اس حدیث میں ہے

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشا پوری متوفی ٥٠٤ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی مہمان نوازی کی اور اس سے فرمایا کہ اپنی کوئی حاجت بیان کرو ‘ اس نے کہا مجھے سواری کے لیے او نٹنی چاہیے اور دودھ پینے کے لیے بکریاں چاہیں۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تو بنو اسرائیل کی بڑھیا سے بھی کم ہمت نکلا آپ کے اصحاب نے پوچھا یا رسول اللہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے ساتھ بنو اسرائیل کو لے جانے کا ارادہ کیا تو ان کو راستہ نہیں ملا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بنو اسرائیل سے پوچھا اس کا کیا سبب ہے ؟ تو بنی اسرائیل کے علماء نے کہا جب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم مصر سے اس وقت نہ نکلیں جب تک یوسف ( علیہ السلام) کی نعش کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا تو تم میں سیے حصرت یوسف کی قبر کا پتا کس کو معلوم ہے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا ان کی قبر کا پتا صرف بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کو معلوم ہے ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو بلا یا اور فرمایا تم حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی قبرکبر کی رہنمائی کرو اس نے کہا میں اس وقت تک ان کی قبر کا پتا آپ کو نہیں بتائوں گی جب تک کہ آپ میری فرمائش نہ پوری کریں ‘ حضرت موسیٰ نے پوچھا تمہاری کیا فرمائش ہے ؟ اس نے کہا میری فرمائش یہ ہے کہ میں جنب میں آپ کے ساتھ آپ کے درجہ میں رہوں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کی فرمائش کو ناپسند کیا حتیٰ کہ وحی سے بتایا گیا کہ اس کی فرمائش پوری کردیں ‘ آپ نے اس کی فرمائش پوری کرنے کا وعدہ کرلیا وہ ان کو سمندر کی ایک کھا ڑی کی طرف لے گئی اور کہا اس جگہ سے پانی ہٹائو ‘ وہاں سے پانی ہٹا یا تو اس نے کہا کہ اس جگہ کھدائی کروجب وہاں سے کھدائی کی تو حضرت یوسف کی نعش مل گئی اور جب انہوں نے حضرت یوسف کی نعش کو نکال لیا تو پھر گمشدہ راستہ ان پر روز روشن کی طرح واضح ہوگیا

یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا۔

(المسدرک ج ٢ ص ٥٠٤‘ طبع قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث ٣٢٥٣‘ طبع جدید ‘ صحیح ابن حبان ج ٢ ص ١٠٥)

تبیان القرآن ج ٥ ص ٢٧٨-٠٧٨ میں اس مضمون کی دیگر احادیث متعد حوالوں کے ساتھ ذکر کی ہیں اور اس حدیث کے فوائد اور اس سے جو مسائل مستنبط ہوتے ہیں ان کا بھی ذکر کیا ہے

اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کیونکہ آپ نے کفار مکہ کو بہت معجزات دکھائے اور ان کے ایمان کی بہت کوشش کی اس کے باوجود ایمان نہیں لائے اس وجہ سے آپ کو بہت رنج اور قلق ہوتا تھا تو اللہ نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ آپ کہ ساتھ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو بہت سے معجزات دکھائے وہ ایسے مچجزات تھے جن سے عقل بہت حیران اور مبہوت ہوجاتی ہے اس کے باوجود فرعون کی قوم سے صرف تین نفر ایمان لائے اور اکثر ایمان نہیں لائے سوا گر آپ پر بھی کفار مکہ ایمان نہیں لاتے تو آپ اس پر زیادہ ملول خاطر نہ ہوں

حضرت موسیٰ فرعون اور بنی اسرائیل کا مفصل قصہ الاعراف ۱۴۵۱۰۳ میں بیان کیا گیا ہے اور وہاں ہم نے اس کی سیر حاصل تفسیر کی ہے سو ان آیات کی تفسیر میں سورة الاعراف کی ان آیتوں کی تفسیر کو بھی پڑھ لیا جائے۔

 

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 67