أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ‌ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ اپنا عصا سمندر پر ماریں، تو یکایک سمندر پھٹ گیا پس (اس کا) ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ اپنا عصا سمندر پر ماری تو یکایک سمندر پھٹ گیا پس (اس کا) ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا ۔ اور موسیٰ کو اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دے دی ۔ پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا ۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے اور بیشک آپ کا رب ہی بہت غالب اور بہت رحم فرمانے والا ہے (الشعراء ٨٢-٣٦)

سمندر پر عصا پر مارنے میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزات

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو اس سے سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور بلاشبہ یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عظیم معجزہ ہے امام رازی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو آپ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ سمندر میں اتر جائیں تو حضرت یوشع بن نون کے سوا سب نے انکار کرد یا ‘ انہوں نے اپنی سواری پر ضرب لگائی اور سمندر میں اتر گئے اور دوسرے پار پہنچ کر واپس آگئے ‘ بنو اسرائیل نے سمندر میں اترنے سے انکار کردیا پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ پھٹ جائے اس نے کہا مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تب آپ سے کہا گیا کہ آپ سمندر پر اپنا عصا ماریے تب سمندر پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل کا ہر قبیلہ ایک راستے سے گزر نے لگ ان بارہ راستوں کو ممتاز کرنے کے لیے ان کے درمیان دیورایں تھیں اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی مانند الگ تھا تو بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا ہمیں اپنے قبیلہ والوں کا حال معلوم نہیں کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مرگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان دیوراروں کے درمیان کھڑکیاں اور روشن دان بنا دئیے وہ سمندر پار کرتے ہوئے ان کھڑکیوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے اور عطا ابن السائب سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل اور آل فرعون کے درمیان حضرت جبریل کھڑے ہوئے تھے اور ان سے کہہ رہے تھے کہ تمہاری پچھے والی جماعت اگلی جماعت سے مل جائے اور قبطیوں سے کہتے کہ تم آ کر ان سے مل جائو

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر پر اپنا عصا مارا اور اس کے نتیجے میں جو اثرات ظاہر ہوئے اس میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے حسب ذیل وجوہ سے معجزات ہیں

(١) لاٹھی مار نے سے سمندر کے پانی کا پھٹ جانا فی نفسہ معجزہ ہے

(٢) اس پانی کا متعدد اطراف سے خشک ہو کر پہاڑ کی طرح بلند ہوجانا اور بارہ دیوراریں بن جانا بھی معجزہ ہے

(٣) بعض روایات میں ہے کہ جب فرعون حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا تعاقب کر رہا تھا اور وہ ان کے قریب پہنچنے والا تھا تو اس زور کی آ ندھی آئی کہ مکمل اندھیرا چھا گیا اور راستہ کا پتا نہ چلنے کی وجہ سے اس کو رکنا پڑا اور اس وقفہ میں بنو اسرائیل بحر قلزم کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اور یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہے

(٣) پانی کی خشک شدہ بارہ دیواروں میں اس طرح کھڑکیاں اور روش دان بن جانا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں یہ بھی معجزہ ہے

(٥) پانی میں بنے ہوئے ان خشک راستوں کا اس وقت تک باقی رہنا کہ بنو اسرائیل سمندر کو عبور کرلیں اور جب فرعوان اور اس کا لشکر ان راستوں پر پہنچا تو خشک راستوں کا مٹ کر پھر پانی بن جانا اور عین سمندر کے وسط میں فرعون اور اس کے لشکر کا غرق ہوجانا یہ الگ معجزہ ہے

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے اور دوسروں کو ہم قریب لے آئے یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنو اسرائیل کے قریب لے آئے ‘ فرعون کا موسیٰ ( علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کے لیے ان کا تعاقب کرنا کفر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کو ہم نے قریب کیا ‘ سو آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف کی نسبت ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے لشکر کا حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے قریب پہنچنا اس کی ہلاکت اور اور سزا کا سبب تھا سو آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف کفر کی نسبت نہیں بلکہ کفر کی سزا دینے کی نسبت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 63