أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۞

ترجمہ:

فرعون نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں سے کہا بیشک یہ ضرور کوئی ماہر جادوگر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرعون نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں سے کہا بیشک یہ ضرور کوئی ماہر جادوگر ہے۔ یہ اپنے جادو کے ذریعہ تم کو تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے سو اب تم کیا مشورہ دیتے ہو !۔ انہوں نے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو ٹھہرائو اور (مختلف) شہروں میں جادوگروں کو اکٹھا کرنے والوں کو بھیج دو !۔ جو تمہارے پاس ہر بڑے جادوگر کو لے کر آئیں۔ (الشعرائ : ٣٧-٣٤)

فرعون کا حضرت موسیٰ سے مرعوبیت اور ان کے برحق ہونے کے تاثر کرنا

جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں لاٹھی کو اژدھا بنادیا جس کے خوف سے فرعون کا پیشاب خطا ہوگیا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا واسطہ دے کر فریاد کی کہ مجھ کو اس سے بچائو تو تمام دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہیبت چھا گئی اور یہ واضح ہوگیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حق پر ہیں، اور فرعون کو بھی یہ انداز ہوگیا کہ اہل دربار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سے متاثر ہوگئے ہیں تو اس نے اہل دربار کے اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے تین باتیں کہیں ایک یہ کہ یہ شخص حق پر نہیں ہے بلکہ یہ کوئی بہت بڑا اور ماہر جادوگر ہے اور اس نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو کا کرشمہ ہے، دوسری بات یہ کہی کہ یہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے وطن سے نکالنا چاہتا ہے یہ اس لئے کہا کہ اہل دربار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا دشمن خیال کریں اور ان سے متنفر ہوں اور تیسری بات ان کی دل جوئی کے لئے کہی اب تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ان باتوں سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اہل دربار کے دلوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے برحق ہونے کا جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ زائل ہوجائے، اور ان سے مشورہ طلب کیا تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ فرعون کو اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھ رہا ہے اور ان کے دلوں میں اگر فرعون سے دوری پیدا ہوئی ہے تو وہ اپنائیت کے جذبہ میں ڈھل جائے۔ اہل دربار فرعون کی ان باتوں سے رام ہوگئے اور انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ ملک کے تمام شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کیا جائے، ان کا خیال یہ تھا کہ جب بہت سارے جادوگر مل کر اکیلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کریں گے تو حضرت موسیٰ مغلوب ہوجائیں گے اور ان کے عیش و آرام کے دن اسی طرح گزرتے رہیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 34