حدیث نمبر 452

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر رات جب آخری تہائی رات رہتی ہے تو ہمارا رب تعالٰی دنیا کے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے ۱؎ ارشاد فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اسے بخش دوں ۲؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے۳؎ اور فرماتا ہے کہ کون قرض دیتا ہے اسے جو نہ فقیر ہے نہ ظالم ۴؎ حتی کہ فجر چمک جاتی ہے۔

شرح

۱؎ یعنی اس کی رحمت اس کا کرم ادھر توجہ فرماتا ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی اترنے چڑھنے سے پاک ہے۔(لمعات)اس سے معلوم ہوا کہ رات دن سے افضل ہے کیونکہ قبولیت کی ساعت ہفتے میں ایک دن یعنی جمعہ میں آتی ہے اور وہ بھی ہم سے چھپی ہوتی ہے مگر رات میں روزانہ قبولیت کی ایک ساعت نہیں بلکہ بہت سی ساعتیں ہوتی ہیں رب اس وقت مانگنے کی توفیق دے۔

۲؎ اگرچہ رب کا یہ فرمان براہ راست ہم نہیں سنتے لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان ہم تک پہنچادیا تو گویا ہم نے سن ہی لیا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ اس فرمانے سے فائدہ کیا۔خیال رہے کہ رات کا آخری تہائی دنیا کے ہر حصے میں مختلف اوقات میں ہے۔مثلًا ہندوستان میں رات کے نو بجے ہوں تو مکہ معظمہ میں رات کے تین جس حصے میں جس وقت تہائی رات باقی رہے گی اس حصے میں اسی وقت یہ توجہ کرم ہوگی۔

۳؎ یہ جملہ متشابہات میں سے ہے اﷲ تعالٰی ہاتھ اور ہاتھ پھیلانے سے پاک ہے لہذا اس سے مراد اپنی رحمت و کرم کا وسیع فرمانا ہے۔

۴؎ یعنی تمہاری نیکیاں ہم پر گویا قرض ہوں گی جن کا عوض تمہیں ضرور ملے گا جیسے قرض خواہ کو غنی عادل مقروض کی طرف سے قرضہ ضرور واپس مل جاتا ہے۔خیال رہے کہ فقیر تو اپنی حاجت روائی کے لیئے قرض لیتے ہیں اور غنی و سلاطین رعایا کی حاجت روائی کے لیئے قرض لیتے ہیں،شاہی بنکہ پبلک کا روپیہ اس لیئے اپنے پاس رکھتے ہیں یا ملازمین کا فنڈ کاٹتے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنی کمائی برباد نہ کرلیں پھر اسے قرض کہتے ہیں اور بوقت ضرورت مع سود واپس کرتے ہیں رب تعالٰی کا یہ قرضہ طلب فرمانا دوسری قسم کا ہے اور اسے قرض کہنا اظہار کرم اور ہمارے اطمینان کے لیئے ہے۔