بیٹی کی عزت کا بدلہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے اللہ کے ہیارے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا

من کانت لہ انثیٰ فلم یئذھا ولم یھنھا ولم یوثر ولدہ علیھا ادخلہ الجنۃ

جسکی لڑکی ہو اور وہ اسے نہ ستائے،نہ اھانت کرے اور نہ اپنے لڑکے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائیگا (ابوداود،کنز العمال ج۱۶ ص ۴۴۷)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑکی کا حق ہے کہ اسے ستایا نہ جائے ،اسکی بے عزتی نہ کی جائے اور گھر میں ایسی کوئی بات اس کے سامنے نہ کی جائے کہ اسے یہ احساس ہو کہ لڑکی ہونے کی وجہ سے مجھسے نفرت کی جا رہی ہے،اور ظاہر سی بات ہے کہ کوئی چیز لڑکے کو لاکر دی جائے لڑکے کی ہر فرمائش قبول کی جائے تو لڑکی کچھ نہ بولے لیکن دل میں اسے احساس ضرور ہوگا،اس لئے فرمائش کی باتوں میں بھی انصاف سے کام لینا چاہیئے،اور کسی طرف ترجیح معاملہ نہ ہونا چاہیئے،اولاد لڑکے ہوں یا لڑکی معملات میں ان میں مساوات ہونی چاہیئے،یہی اللہ اور رسول کی رضا کا فیصلہ ہے،یہ کوئی معمولی بات ہے کہ لڑکی کی خاطرداری پر جنت کی بشارت دی جارہی ہے؟

لڑکی والدین کو زیادہ چاہتی ہے

لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اولاد ہیں مگر فطری اعتبار سے دیکھا جائے تو لڑکیا موم اور کمزور دل کی ہوتی ہیں،بہت جلد ناراض ہو جاتی ہیں،اور معمولی سی بات میں اشک بار ہو جاتی ہیں اس لئے انکا خیال رکھنا چاہیئے،اور جہاں تک والدین سے محبت کی بات ہے تو یہ تجربہ سے دیکھا گیا کہ لڑکیوں کو اپنے والدین سے زیادہ محبت ہوتی ہے،وہ جب تک اپنے والدین کے گھر ہوتی ہیں دل و جان سے والدین کی خدمت کرتی ہیں اور شادی کے بعد سسرال جاتی ہیں تو تھوڑے تھوڑے دن میں ان کے دل میں والدیں کی خبر لینے کا شوق پیدا ہوتا ہے،لڑکوں سے زیادہ انہیں والدین سے انس ہوتا ہے،اور یہ صرف تجربہ پر ہی موقوف نہیں بلکہ ہمارے آقا ﷺ نے بھی لڑکیوں کی اس خوبی سے ہمیں واقف فرمایا ہے

حضرت عقبیٰ بن عامر سے روایت ہے اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا لا تکرھوا النبات فانھن موٗنسات الغالیات ،لڑکیوں سے نفرت نہ کرو کیونکہ گرانقدر اور زیادہ ہی انس ومحبت کرنے والی ہیں (طبرانی ، کنز العمال ج۱۶ ص ۶۶۹)