حدیث نمبر 471

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایسے دریچے ہیں کہ جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر سے دیکھاجاتا ہے ۱؎ یہ اﷲ نے ان کے لیئے بنائے جو بات نرم کریں اور کھانا کھلائیں ۲؎ اور متواتر روزے رکھیں اور جب لوگ سوتے ہوں تو رات میں نماز پڑھیں۳؎(بقیہ شعب الایمان)اور ترمذی نے حضرت علی سے اس کی مثل روایت کی اور ایک روایت میں ہے جو اچھا کلام کرے۔

شرح

۱؎ یعنی ان کی دیواریں اور کواڑ ایسے صاف اور شفاف کہ نگاہ کو نہیں روکتے جس کا نمونہ کچھ دنیا میں شیشے کی دیواروں اور کواڑوں میں نظر آتا ہے،اس شفافی میں اس کے حسن و خوبی کی طرف اشارہ ہے۔

۲؎ یعنی وہ دریچے ان لوگوں کے لیئے ہیں جن میں یہ چار صفات جمع ہوں ہر مسلمان دوست یا دشمن سے نرمی سے بات کرنا،کفار سے سخت کلامی بھی عبادت ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ”اور فرماتا ہے:”وَلْیَجِدُوۡا فِیۡکُمْ غِلْظَۃً” ہر خاص و عام کو کھانا کھلانا اس میں مشائخ کے لنگروں کا ثبوت ہے،بعض بزرگوں کے ہاں چرند و ں پرندوں کو بھی دانا پانی دیا جاتا ہے وہ طعام کو بہت عام کرتے ہیں۔

۳؎ یعنی ہمیشہ روزے رکھیں سوا ان پانچ دنوں کے جن میں روزہ حرام ہے یعنی شوال کی یکم اور ذی الحجہ کی دسویں تا تیرھویں یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو ہمیشہ روزے رکھتے ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس کے معنی ہیں ہر مہینہ میں مسلسل تین روزے رکھے،چونکہ نماز تہجد ریاء سے دور ہے اور تمام نمازوں کی زینت اس لیئے اس کے پڑھنے والے کو مزین دریچے دیئے گئے۔خلاصہ یہ ہے کہ جودو سجود کا اجتماع بہترین وصف ہے۔شعر

شرف مرد بخود است و کرامت بسجود ہر کہ ایں ہر دوندا رعد مش بہ زوجود