أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّىۡۤ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک وہ (سب) میرے دشمن ہیں ‘(کوئی برحق معبود نہیں) سوا رب العٰلمین کے۔

حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے قوی دلیل قائم کی تو ان کے عرفی باپ اور ان کی قوم سے کوئی بات نہ بن سکی جس سے وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی حجت کو توڑ کرسکتے اور بتوں کی عبادت پر ان کے اعتراض کو دور کرسکتے تب انہوں نے یہ کہا

فرمایا انہوں نے کہا نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ داد کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے۔ ابراہیم نے کہا اچھا یہ بتائو تم کن کی عبادت کرتے رہے تھے۔ تم اور تمہارے پہلے باپ دادا ؟۔ بیشک وہ (سب) میرے دشمن ہیں کوئی حق معبود نہیں سوا رب العالمین کے ( الشعر اء ٧٧-٤٧ )

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم کے پاس بتوں کی عبادت کرنے پر سوائے اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کوئی سند نہیں تھی اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دلائل کے مقابلہ میں محض تقلید سود مند نہیں ور تقلید کرنا باطل ہے مگر عقائد میں تقلید کرنا ممنوع اور مسائل شرعیہ فرعیہ میں تقلید کرنا جائز ہے اور عوام جو خود براہ راست کتاب و سنت سے مسائل اخذ نہیں کرسکتے ان پر علماء اور اہل فتویٰ کو تقلید کرنا واجب ہے 

بتوں کے دشمن فرمانے کی توجیہ 

حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے بتوں کو دشمن فرمایا حالا نکہ دشمن ہونا تو کسی جاندار اور صاحب عقل کے صفت ہے جو کسی کا کچھ بگاڑ سے کسی کو ضرر اور نقصان پہنچا سکے بےجان پتھر کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور کسی کو کیا ضرر پہنچا سکتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے 

ہر گز نہیں (بت کافروں کے لیے ہرگز باعث عزت نہیں ہوں گے) وہ عنقریب کفار کی عبادت کرنے کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف اور دشمن ہوجائیں گے۔(مریم ٢٨ )

اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ کفار دنیا میں جن بتوں کی عبادت کرتے تھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو زندہ کر دے گا حتیٰ کہ وہ کفار کو اس کی عبادت کرنے پر ڈانٹیں گے اور ان کی عبادت سے اپنی برات اور بیزاری کا اظہار کریں گے اس اعتبار سے یہ بت آخرت میں کفار کے دشمن بنا جائیں گے اس اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان پر دشمن کا اطلاق فرمایا۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جب کفار نے ان بتوں کی تعظیم اور ان کی عبادت کی اور ان سے نفع پہنچانے اور ضرر دور کرنے کی امید رکھی تو کفار نے اپنے عتقاد میں ان کو زندثہ اور عقل والا قردار دیے دیا اور جب واقع میں ان بتوں نے کفار کو دنیا میں نفع پہنچایا نہ آ خرت میں اور دنیا میں ان سے ضرر دور کیا نہ آ خر تمہیں تو انجام کار وہ بت کفار کے دشمن ثابت ہوئے کہ کفار کی اتنی تعظیم اور عبادت کے باوجود دنیا اور آ خرت میں ان کے کسی کام نہ آسکے 

بتوں کو کفار کا دشمن کہنے کے بجائے اپنا دشمن کہنے کی توجیہ 

ایک اعتراض اس مقام پر یہ ہوتا ہے کہ کلام کے سیاق وسباق سے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو بہ ظاہریہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ بت ان کفار کے یا اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہیں حالانکہ انہوں نے یہ کہا کہ وہ میرے دشمن ہیں اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ تعریضاً کہا ہے یعنی حقیقت میں وہ کفار کے دشمن تھے لیکن فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں تعریض اس کو کہتے ہیں کہ صراحۃً ایک شخص کی طرف اسناد کیا جائے اور اشارہ دوسرے کی طرف ہو 

اس کا مفصل جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے آپ کو کفار کی جگہ پر رکھ کر غور کیا کہ اگر میں بہ فرض محال ان بتوں کی عبادت کرتا اور وہ دنیا اور آ خرت میں مجکھے نقصان پہنچاتے تو میں ان کو اپنا دشمن قرار دیتا اور ان کی عبادت کرنے سے اجتناب کرلیتا اور اس کی عبادت کرتا جو مجھے دنیا اور آ خرت میں نفع پہنچاتا اور ضرر سے بچاتا اور وہ صرف رب العالمین ہے تو میں ان کو وہ نصحیت کرتا جو نصیحت میں اپنے نفس کے ساتھ کرتا سو اگر وہ غور کریں تو انہیں یہ کہنا پڑے گا کہ حضرت ابراہیم ان کو وہ نصیحت کررہے ہیں جو نصیحت اپنے آپ کو کرتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 77