أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ اِذۡ تَدۡعُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

ابراہیم نے کہا کیا وہ تمہاری فریاد سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟

بتوں کی عبادت کا رد فرمانا 

الشعر اء ۷۳ -۷۲ میں فرمایا ابراہیم نے کہا کیا وہ تمہاری فریاد سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟ یا وہ تمہیں نفع اور نقصان بھی پہنچاتے ہیں ؟ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص اپنے غیر کی عبادت کرتا ہے اس کا غالب حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور حاجات کا اپنے معبود سے سوال کرتا ہے تاکہ اس کامعبود جب اس کے سوال کو سنے تو جان لے کہ اس کی کیا ضروریات ہیں پھر اس کو نفع پہنچائے یا اس سے ضرر کو دور کرے اور جب حال یہ ہے کہ جب تم ان کو پکارتے ہوتو وہ تمہار پکار کو نہیں سنتے اور نہ ان کو تمہاری ضروریات اور حاجات کا علم ہوتا ہے پھر وہ کیسے تمہاری حاجب روائی کریں گے یا تم کو نفع پہنچائیں گے یا کس طرح تم سے ضرر کو دور کرسکیں گے اور جب و تم کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ تم سے ضرر اور نقصان کور دور کرسکتے ہیں تو پھر ایسے گونگے بہرے اور کسی کام نہ آ سکنے والے پتھر کے بےجان مجسموں کی عبادت کو تم کس وجہ سے جائز قرار دیتے ہو اور جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ قوی دلیل قائم کی تو ان کے عرفی باپ اور ان کی قوم سے کوئی بات نہ بن سکی جس سے وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی حجت کو توڑ کرسکتے اور بتوں کی عبادت پر ان کے اعتراض کو دور کرسکتے تب انہوں نے یہ کہا

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 72