أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا نَـعۡبُدُ اَصۡنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں سو ہم ان ہی کے لیے جم کر بیٹھے رہتے ہیں۔

صنم کا معنی 

الشعراء ۷۱ میں ہے انہوں نے کہا ہم اصنام کی عبادت کرتے ہیں سو ہم ان ہی کے لیے دن بھر معتکف رہتے ہیں 

اصنام ‘ صنم کی جمع ہے صنم کا معنی بیان کرتے ہوئے

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں 

صنم اس مجسمہ کو کہتے ہیں جو چاندی یا پیتل یا لکڑی سے بنایا گیا ہو کفار اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کی عبادت کرتے تھے قرآن مجید میں ہے 

اور جب ابراہیم نے اپنے (عرفی) باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو 

بعض حکماء نے کہا ہر وہ چیز جس کی اللہ کو چھوڑ کر پرستش کی جائے وہ صنم ہے بلکہ ہر و چیز جس کی مشغولیت اللہ سے غافل کر دے وہ صنم ہے اس معنی پر آیات محمول ہے 

مجھے اور میرے بیٹوں کو بت پرستی دور رکھ (ابراہیم ٥٣ )

اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی جس قدر قومی معرف تھی اور آپ اللہ کی حکمتوں پر جتنا مطلع تھے اس پیش نظر یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ کو یہ خطرہ ہوتا کہ آپ ان بتوں کی عبادت کریں گے جن کی آپ کی قوم عبادت کرتی تھی پس گویا کہ آپ نے یہدعا کی کہ مجھے ان چیزوں میں مشغول ہونے سے باز رکھ جو مجھے تجھ سے غافل کردیں۔(المفردات ج ٢ ص ٦٧٣‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ)

انہوں نے کہا ہم دن بھر ان کے لیے معتکف رہتے ہیں 

العکوف کا معنی ہے کسی چیز کی تعظیم کی نیت سے اس کی طرف متوجہ ہونا اس کے پاس لازم رہنا اور شریعت کا اعتکاف کا معنی ہے اللہ کا تقریب حاصل کرنے کی نیت سے اپنے آپ کو مسجد میں ٹھہرا لینا ‘ کفار بتوں کی تعظیم کے لیے بتوں کے پاس جم کر بیٹھ جاتے تھے 

نظل ظل سے بنا ہے اس کا معنی ہے دن بھر کسی کام میں مصروف رہنا وہ جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ دن کے ساتھ خاص نہیں تھی بلکہ وہ دن رات ان کی عبادت میں مشغول رہتے تھے اس لیے اس کا معنی ہے ہم ہمیشہ ان کے پاس ٹھہرے اور جمے رہتے ہیں جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان سے پوچھا تم کس کی عبادتکر تے ہو تو انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ ہم بتوں کی عبادت پر جمے رہتے ہیں 

علامہ اسماعیل حقی متوفی ٨٣١١ ھ لکھتے ہیں 

حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اپنی والدہ کے بطن سے غار میں پیدا ہوئے تھے جب وہ بڑے ہوئے تو غار سے نکلے اور شہر میں داخل ہوئے اور انہوں نے چاہا کہ وہ یہ جان سکیں کہ شہو والے کس دین پر ہیں اسی طرح عقل مند لوگوں کو چاہیے کہ جب وہ کسی نئے شہر میں داخل ہوں تو وہاں کے لوگوں کا مذہب معلوم کریں اگر ان مذہب صحیح ہو تو ان کی موافقت کریں اور اگر ان مذہب باطل ہو تو ان کا رد کریں جب حضرت ابراہیم نے شہر والوں سے پوچھا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا ہم بتوں کی بعادت کرتے ہیں سو ہم ان ہی کے لیے دن بھر معتکف رہتے ہیں تب حضرت ابراہیم نے ان کا رد کرنے کا ارادہ کیا اور فرمایا (روح البیان ج ٦ ص ١٢٣ مطبوعہ داراحیا ئا لتراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 71