أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

اور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر (بھی) پڑھیے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

اور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر (بھی) پڑھیے۔ جب انہوں نے اپنی عرفی باپ اور اس کی قوم سے کہا تم کسی کی عبادت کرتے ؟ انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں سو ہم ان ہی کے لیے جم کر بیٹھے رہتے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کیا وہ تمہاری فریاد سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟ یا وہ تمہیں نفع اور نقصان بھی پہنچاتے ہیں انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا۔ ابراہیم نے کہا اچھا یہ بتائو کہ تم کن کی عبادت کرتے رہے تھے تم اور تمہارے پہلے باپ دادا ‘ بیشک وہ (سب) میرے دشمن ہیں ‘(کوئی برحق معمود نہیں) سوا رب العٰلمین کے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ 

اس سورت میں جو انبیا ( علیہ السلام) کے قصص بیان کیے گئے ہیں ان میں سے یہ دوسرا قصہ ہے جس میں حضرت سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام) کا ذکر ہے اور ان واقعات کا جو انہیں اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کے سلسلے میں پیش آئے 

اس سورت کی ابتداء میں یہ ذکر فرما تھا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ میں بےانتہا کوشش کرنے کے باوجود کفار مکہ کے ایمان نہ لانے سے بےحد رنج اور صدمہ ہوتا تھا 

لگتا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کے غم میں آپ اپنی جان دے دیں گے (الشعراء ٣)

تو اس سورت میں آپ کی تسلی دینے کے لیے پہلے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ ذکر فرمایا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کئی سالوں تک فرعون کو تبلیغ کی اور بڑے بڑے معجزات دکھائے اس کے باوجود فرعون کی قوم سے صرف تین نفر مسلمان ہوئے تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ معلوم ہو کہ آپ کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا ہے وہ کئی نیا نہیں ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بھی اس صدمہ سے دوچار ہوچکے ہیں پھر آپ کی مزید تسلی کے لیے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا کہ تبلیغ دین کے خاطر خواہ اثرات مرتب نہ ہونے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا ان حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا انہوں نے اپنے عرفی باپ آزر کو اور اپنی قوم کو بتوں کی عبادت کرنے پر دوزخ کے عذاب سے ڈرایا لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے ان آیتوں میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ان ہی تبلیغی کاوشوں کا بیان فرمایا ہے

الشعراء ٩٢ میں فرمایا اور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر بھی تلاوت کیجیے تلاوت کا معنی ہے ایک کے بعد دوسرے جملے کو پے بہ پے پڑھنا اور قرات کا معنی ہے مطلقاً ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 69