أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ

بعد والوں کی ثناء کے حصول کی دعا کی توجیہات 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس دعا میں اپنے دوسرے مطلوب کے لئے فرمایا : اور بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ، ان کی اس دعا کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی آیت میں اخروی کمال کے حصول کی دعا کی تھی اور اس آیت میں کمال دنیا کے حصول کے لئے دعا کی اس دعا میں یہ طلب کیا کہ تمام دنیا کے لوگ ان کے مدح اور ثنا کریں اور ان کی تعظیم و تکریم کریں۔

(٢) اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کو ایسی عزت اور فضیلت عطا فرمائے جس کا اثر قیامت تک باقی رہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی کیونکہ یہود، عیسائی اور مسلمان سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تعظیم اور تکریم کرتے ہیں۔

(٣) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول عام عطا فرمائے اور تمام لوگوں کی زبانوں پر ان کے لئے ذکر خیر جاری ہو، اور زبانوں پر ذکر خیر کو اس لئے طلب کیا کہ لوگوں کا اپنی زبانوں سے آپ کا ذکر خیر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں اور لوگوں کا آپ سے محبت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرتا ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلا کر فرماتا ہے میں فلاں (بندے) سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، پھر جبریل اس سے محبت کرتے ہیں پھر جبریل آسمان میں ندا کرتے ہیں کہ بیشک اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین والوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٦٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦١٣، مسند احمد رقم الحدیث : ٥٨٦٠١، عالم الکتب، مسند احمد ج ٢، ص ٧٦٢، ج ٣ ص ٣١٤ طبع قدیم)

(٤) جب لوگ اپنی زبانوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ کا ذکر کریں گے تو ان فضائل اور کمالات کو سن کر دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے اور ان اخلاق سے متخلق ہونے کی رغبت ہوگی۔

(٥) اس دعا سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی غرض یہ تھی کہ آخر زمانہ میں اللہ تعالیٰ ان کی اولاد سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمائے جس کا اس آیت میں بھی ذکر ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی :

ربنا وابعث فیھم رسولا منھم ینلوا علیھم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم۔ (البقرہ : ٩٢١) اے ہمارے رب ! ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیج دے، جو ان پر تیری آیتوں کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کے باطن کو پاک اور صاف کرے، بیشک تو بہت غالب، بےحد حکمت والا ہے۔

حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبین لکھا ہوا تھا اور اس وقت حضرت آدم اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے اور میں عنقریب تمہیں اپنی ابتداء کی خبر دوں گا میں ابراہیم کی دعا ہوں اور عیسیٰ کی بشارت ہوں اور میں اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جو اس نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا ان سے ایک نور نکلا جس نے ان کے لئے شام کے محلات روشن کردیئے۔

(مسند احمد صحیح اب حبان المستدرک شرح السنتہ کنزالاعمال مشکوۃ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 84