أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاُزۡلِفَتِ الۡجَـنَّةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور متقین کے لیے جنت قریب کردی جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ متقین کے لئے جنت قریب کردی جائے گی۔ اور گمراہوں کے لئے دوزخ کو ظاہر کیا جائے گا۔ اور ان سے کہا جائے گا وہ کہاں ہیں جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ اللہ کو چھوڑ کر کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا تمہارا بدلہ لے سکتے ہیں۔ پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ، دوزخ میں اوندھے مُنہ گرا دیئے جائیں گے۔ اور ابلیس کا (سارا) لشکر بھی۔ وہ دوزخ میں لڑتے ہوئے کہیں گے۔ اللہ کی قسم ! بیشک ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ جبکہ (اے بتو ! ) ہم تم کو رب العالمین کے مساوی قرار دیتے تھے۔ اور ہمیں صرف مجرموں نے گمراہ کردیا۔ سو ہمارے لئے کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ اور نہ کوئی سچا دوست۔ اگر کاش دنیا میں ہمیں دوبارہ لوٹنا ہوتا تو ہم پکے مومن بن جاتے۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے۔ بیشک آپ کا رب ہی ضرور بہت غالب، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (الشعراء 90-104:)

جنت اور دوزخ کی صفات 

ازلفت کا معنی ہے قریب کردی گئی، حالانکہ جنت ابھی قریب نہیں کی گئی قیامت کے دن قریب کی جائے گی، اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیز کا تحقق اور وقوع مستقبل میں یقینی ہو اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کردیا جاتا ہے، کیونکہ ماضی میں جو کام ہوچکا اس کا متحقق ہونا بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہوتا ہے۔

اور متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر اور شرک سے مجتنب ہوں اور وہ مسلمان جو کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہوں اور متقین کا اعلیٰ درجہ وہ مسلمان ہیں جو گناہ صغیر، خلافت سنت اور خلاف اولیٰ سے بھی مجتنب ہوں۔ الشعرائ 90: میں جنت کا ذکر اور الشعرائ 91: میں دوزخ کا ذکر ہے اور جنت اور دوزخ کے متعلق یہ حدیثیں ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت اور دوزخ میں بحث ہوئی۔ دوزخ نے کہا مجھے متکبر اور جابر لوگ دیئے گئے ہیں جنت نے کہا میرے لیے کیا ہے مجھ میں تو کمزور، ردی اور پس ماندہ لوگ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تم میرا عذاب ہو، مَیں اپنے بندوں میں سے جس پر رحم کرنا چاہوں گا تمہارے ساتھ اس پر رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا تم میرا عذاب ہو، مَیں اپنے بندوں میں سے جس کو عذاب دینا چاہوں گا تمہارے ساتھ اس پر رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا تم میرا عذاب ہو، مَیں اپنے بندوں میں سے جس کو عذاب دینا چاہوں گا تمہارے ساتھ اس کو عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک کے لئے بھرنا اور پُر کرنا ہے، رہی دزوخ تو وہ اس وقت تک پُر نہیں ہوگی جب تک کہ اللہ اس میں اپنا پیر نہیں رکھ دے گا، پھر وہ کہے گی : بس ! بس ! بس ! اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ، دوسرے بعض حصہ سے مل جائے گا، پس اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا، رہی جنت تو اللہ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا کرے گا۔ (صحیح البخاری)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو جبریل نے فرمایا : جائو جنت کی طرف دیکھو، وہ گئے اور انہوں نے جنت کی طرف دیکھا اور جنتیوں کے لئے اس میں جو نعمتیں رکھی ہیں ان کو دیکھا پھر وہ آئے اور انہوں نے کہا : اے میرے رب ! تیری عزت اور جلال کی قسم ! جو شخص بھی جنت کے متعلق سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر جنت کے اوپر مصائب اور مشقتیں ڈال دی گئیں، پھر جبریل سے فرمایا : اے جبریل اب جائو اور جنت کی طرف دیکھو۔ انہوں نے جا کر جنت کو دیکھا، پھر آئے اور کہا کے میرے رب تیری عزت اور جلال کی قسم ! مجھے خدشہ ہے کہ اب تو اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا کیا اور فرمایا : اے جبریل ! جائو دوزخ کی طرف دیکھو، جبریل گئے اور انہوں نے دوزخ کو دیکھا پھر کہا : اے میرے رب تیری عزت کی قسم ! دوزخ کو سُن کر تو کوئی شخص بھی اس میں داخل نہیں ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر شہوتیں ڈال دیں، پھر فرمایا : اے جبریل جائو دوزخ کی طرف دیکھو، وہ گئے اور انہوں نے دوزخ کو دیکھ کر کہا : اے میرے رب تیری عزت کی قسم ! اب تو کوئی شخص بھی اس میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ (سنن ابو دائود)

جنت اور دوزخ کس جگہ پر واقع ہیں 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جہنم غاوین کے لئے ظاہر کی گئی ہے، غاوین سے مراد کافر اور مشرک ہیں۔ کفار کے دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے ان پر دوزخ کو ظاہر کردیا جائے گا، تاکہ دوزخ کا خوف اور غم ان پر طاری ہوجائے، اسی طرح جنتیوں کو بھی پہلے جنت دکھا دی جائے گی تاکہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ان پر فرح اور سرور کی کیفیت طاری ہوجائے۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

جنت کے متعلق فرمایا اس کو قریب کردیا گیا ہے اور دوزخ کے متعلق فرمایا اس کو ظاہر کیا گیا ہے، یعنی اس کو دکھایا گیا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ جنت اہل ِ محشر کے قریب ہوگی اور دوزخ کو دور سے دکھایا جائے گا، ابن کمال نے یہ کہا ہے کہ جنت کی جگہ ارض محشر سے بہت دور ہے اس لئے فرمایا اس کو متقین کے قریب کردیا گیا اور دوزخ کی جگہ ارض محشر کے قریب ہے اس لئے فرمایا اس کو ظاہر کیا گیا، ایک قول یہ ہے کہ یہ مشہور قول پر مبنی ہے کہ جنت آسمان میں ہے اور دوزخ زمین میں ہے اور قیامت کے دن جب زمین کو پھیلایا جائے گا تو اس کی گولائی کو ختم کر کے اس کو پھیلا دیا جائے گا، کیونکہ قرب اور بعد کا معاملہ اسی وقت ظاہر ہوسکتا ہے۔

اور یہ امر واضح رہے کہ جنت کا آسمان میں ہونا ان امور میں سے ہے جن پر اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے اور اس میں ان کا کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں ہے، لیکن دوزخ کے زمین کے نیچے ہونے میں توقف ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اتمام الدرایہ میں کہا ہے کہ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ جنت آسمان میں ہے اور دوزخ کے متعلق ہم توقف کرتے ہیں۔ دوزخ کس جگہ پر ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس باب میں مجھے کوئی ایسی حدیث نہیں ملی، جس پر مجھے اعتماد ہو اور ایک قول یہ ہے کہ دوزخ زمین کے نیچے ہے۔ علامہ سیوطی کا کلام ختم ہوا۔

زمین کو پھیلا کر اس کی گولائی کو ختم کردینا یہ بعض کا قول ہے۔ امام قرطبی نے التذکرہ میں بہ کثرت احادیث کو نقل کرنے کے بعد یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور زمین کو پیدا کرے گا جو چاندی کی ہوگی اور سفید ہوگی، جس پر کوئی ناحق خون بہایا گیا ہوگا نہ کوئی ظلم کیا گیا ہوگا اور ارض محشر سے دوزخ کے قریب ہونے اور جنت کے بعید ہونے کے متعلق اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ پل صراط کو عبور کرنے کے بعد جنت تک رسائی ہوگی اور وہ پل صراط دوزخ کی پشت پر رکھا ہوا ہے جیسا کہ اس کی احادیث میں تصریح ہے، پس پہلے دوزخ تک پہنچنا ہوگا پھر پل صراط کو عبور کرنے کے بعد جنت تک رسائی ہوگی اور یہ دوزخ کے قریب ہونے اور جنت کے بعید ہونے میں واضح ہے، پھر اس آیت کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت کو اس کی اصل جگہ سے ارض محشر کے قریب منتقل کیا جائے گا، کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے اور جنت متقین کے قریب کردی گئی اور احادیث میں جنت کو منتقل کرنے کا ذکر نہیں ہے، ہاں احادیث میں دوزخ کو نقل کرنے کا ذکر ہے، کیونکہ التذکرہ ہے۔ امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کے ساتھ 70 ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ 70 ہزار فرشتے ہوں گے اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دوزخ کو اس کی اصل جگہ سے لایا جائے گا۔

بہرحال اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت کے دن جنت کو متقین کے لئے ارض محشر کے قریب لایا جائے گا اور دوزخ کو دکھایا جائے گا اور علامہ قرطبی نے اس آیت کی یہ توجیہ کی ہے کہ دوزخ کی پشت پر پل صراط کو بچھا دیا جائے گا، سو پہلے دوزخ سے گزر ہوگا اور پھر جنت تک رسائی ہوگی۔ (روح المعانی)

مَیں کہتا ہوں کہ حدیث میں یہ صریح ہے کہ جنت آسمانوں کے اوپر او عرش کے نیچے ہے :

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین میں فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا سے بلند درجہ ہے اور اس سے جنت کی چار نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔

(سنن الترمذی)

اور دوزخ کے متعلق کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 90