أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہمیں صرف مجرموں نے گمراہ کردیا

اس وقت مشرک کہیں گے کہ ہمیں صرف مجرموں نے گمراہ کردیا تھا۔

اس آیت میں مجرموں سے مراد کون ہیں اس میں متعدد اقوال ہیں :

(1) کیونکہ اس سے پہلے مشرکین کا بتوں اور شیاطین سے جھگڑے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں سے مراد وہی بت اور شیاطین ہیں۔

(2) اس سے مراد ان کے بڑے بڑے سردار ہیں جن کی وہ عقائد میں پیروی کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیت میں ہے :

اور وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے بڑوں اور اپنے سرداروں کا کہنا مانا تو انہوں نے ہمیں راہ راست سے جھٹکا دیا۔ (الاحزاب : 67)

3 ۔ اس سے مراد ان کے اگلے باپ داد ہیں۔

4 ۔ اس سے مراد وہ جن اور انس ہیں جنہوں نے ان کو بتوں کی عبادت کرنے پر اکسایا۔

5 ۔ ابن جریج نے کہا اس سے مراد ابلیس ہے اور قابیل ہے جس نے سب سے پہلے قتل کیا تھا اور معصیت کی بنیاد رکھی تھی۔

اس دن مشرکین حیران ہوں گے کہ اپنے کفر اور شرک کا سبب کس کو قرار دیں کبھی وہ اس کا سبب ابلیس کو قرار دیں گے، کبھی اگلے باپ دادا کو اور کبھی اپنے بڑوں اور سرداروں کا سبب ہو اور اگر تم نہ ہوتے تو میں مومن ہوت اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بتوں کو گویائی عطا فرمائے اور وہ بت ان سے کہیں کہ ہم تو جمادات تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے بری تھے تم نے ہم کو اپنا معبود بنا لیا اور ہم کو اس ہلاکت میں مبتلا کردیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 99