حدیث نمبر 469

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے اﷲ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ نہ مانے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ بیوی کا یہ پانی چھڑکنا خاوند کی نافرمانی یا اس کی بے ادبی نہیں بلکہ اسے نیکی کی رغبت دینا اور اس پر امداد کرنا رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی”۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی سے جبرًا نیکی کرانا ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ لوگ عوام کی بزرگوں کی مشائخ کی دعا لینے کے لیئے بڑے بڑے پاپڑ بیلتے ہیں۔دوستو اگر جناب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لینی ہے تو خود بھی تہجد پڑھو اور اپنی بیویوں کو بھی پڑھاؤ۔بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ اس جوڑے کو ہرا بھرا رکھے۔