أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ۞

ترجمہ:

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے دوبارہ کہا : سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (الشعرائ : ١١٠)

اس جگہ یہ سوال ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دو بار یہ کلام فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے انہوں نے کہا تھا بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں اس کے بعد فرمایا : سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو یعنی جب میری رسالت ثابت ہوگئی تو تم میری اطاعت کرو ورنہ تم اللہ کے عذاب کے مسحتق ہو گے، اور دوسری بار جب فرمایا میں اس تبلیغ دین پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، تو دوبارہ فرمایا سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو یعنی جب یہ واضح ہوگیا کہ میرا تمہیں دین پہنچانا محض اخلاص سے ہے اور میں تم سے اس کا کوئی معاوضہ نہیں لے رہا تو تم پر میری اطاعت کرنا واجب ہے، خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ دونوں حکموں کے دو مختلف سبب ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 110