أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ وَمَا عِلۡمِىۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

نوح نے کہا ان کے کاموں کو جاننے سے مجھے کیا سروکار ہے

احکام شرعیہ ظاہر پر مبنی ہیں اور باطن اللہ کے سپرد ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نوح نے کہا ان کے کاموں کو جاننے سے مجھے کیا سرو کار ؟ (الشعرائ : ١١٢) ان کی قوم نے کہا تھا کہ یہ لوگ غور و فکر اور بصیرت سے ایمان نہیں لائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا مجھے ان کے پیشوں سے کوئی رسوکار نہیں ہے انہوں نے میرے سامنے اللہ کا شریک قرار دینے سے توبہ کی اور اللہ کی وحدانیت کا اعتراف اور اقرار کیا میرے لئے یہ کافی ہے

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 112