أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰـنُوۡحُ لَـتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

(ان کو قوم نے کہا) اے نوح ! اگر آپ باز نہ آئے تو آپ ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو سنگسار کردیا گیا ،

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان کو قوم نے کہا) اے نوح ! اگر آپ باز نہ آئے تو آپ ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو سنگسار کردیا گیا، (نوح نے) عرض کیا : اے میرے رب ! میری قوم نے میری تکذیب کردی، پس تو میرے اور ان کے درمیان آخری فیصلہ کر دے اور مجھے اور ان لوگوں کو نجات دے دے جو میرے ساتھ ایمان لانے والے ہیں، پس ہم نے ان کو نجات دے دی اور ان لوگوں کو بھی بھری ہوئی کشتی میں ان کے ساتھ تھے، بعدازاں باقی تمام لوگوں کو ہم نے غرق کردیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، بیشک آپ کا رب ضرور بہت غالب اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (الشعرائ : ١٢٢-١١٦)

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے خلاف دعا کی توجیہ 

جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے متکبرین حضرت نوح (علیہ السلام) کے دلائل کا جواب نہ دے سکے، تو انہوں نے حضرت نوح کو دھمکیاں دینا شروع کردیں جیسا کہ ہر وہ شخص کرتا ہے جو دلائل سے عاجز ہو اور لاجواب ہوجائے، انہوں نے یہ دھمکی دی کہ اگر وہ اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو وہ حضرت نوح کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے، تب حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اپنی قوم کے متکبرین کے خلاف دعا کی : اے میرے رب میری قوم نے میری تکذیب کردی، پس تو میرے اور ان کے درمیان آخری فیصلہ کر دے۔ اس سے حضرت نوح کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو یہ خبر دے رے ہیں کہ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کردی ہے کیونکہ ان کا ایمان تھا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشھادۃ ہے۔ لیکن ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ قوم کے خلاف دعا کرنے کا اپنی طرف سے عذر پیش کریں کہ وہ اپنی قوم کے خلاف اس لئے دعا نہیں کر رہے کہ قوم نے ان کی تکذیب کی ہے اور ان کو ایذاء پہنچائی یہ بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھا کہ اے اللہ ! میں صرف تیری اور تیرے دین کی وجہ سے ان کے خلاف دعا کر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے تیری وحی اور تیری رسالت کی تکذیب کی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 116