أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

ان کی قوم نے کہا ہم آپ پر ایمان لے آئیں حالانکہ آپ کی پیروی پس ماندہ لوگوں نے کی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کی قوم نے کہا ہم آپ پر ایمان لے آئیں حالانکہ آپ کی پیروی پس ماندہ لوگوں نے کی ہے۔ نوح نے کہا ان کے کاموں کو جاننے سے مجھے کیا سروکار ہے ان کا حساب تو صرف میرے رب کے ذمہ ہے اگر تمہیں کچھ شعور ہو، اور میں ایمان والوں کو دھتکارنے الا نہیں ہوں، اور میں تو صاف طور پر (عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔ (الشعرائ : ١١٥-١١١)

جن نیک لوگوں کو معاشرہ میں پست اور بےوقعت سمجھا جاتا ہے اللہ کے نزدیک وہی عزت والے ہیں 

یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا ہم کیسے آپ پر ایمان لائیں حالانکہ جو لوگ آپ کی پیروی کر رہے ہیں وہ بہت پس ماندہ ہیں، ان کے پاس مال و دولت ہے، نہ معاشرہ میں کوئی نمایاں حیثیت ہے، جب آپ کے ساتھ نچلے درجہ کے لوگ بٹیھے ہوئے ہوتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ نہیں بٹھ سکتے،

قرآن مجید میں ان کے لئے ارذلون کا لفظ ہے اور یہ ارذل کی جمع ہے، اور رذالت کا معنی ہے خست اور گھٹیا پن، جن سے نفرت کی جائے۔ ان کی قوم کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی پیروی نہایت بےوقعت لوگوں نے کی ہے جن کا کوئی زون اور شمار نہیں ہے کیونکہ یہ کم عقل لوگ ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ جو تایں گانٹھنے والے اور حجامت کرنے والے لوگ ہیں انکو کیا خبر کہ کس کی عبادت کرنی چاہیے اور کس کی نہیں، ان کے نزدیک عزت اور وجاہت والے لوگ وہ تھے جن کے پاس مال و دولت ہو معاشرہ میں ان کا اونچا مقام ہو، اور وہ لوگ اس بات سے جاہل تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان لوگوں کی مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ اصل نعمت تو آخرت کی نعمت ہے اور یہ نعمت اللہ تعالیٰ کے خوف، اس کی اطاعت اور اس کے نبی کی محبت اور اس کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے سو عزت اور وجاہت والا وہی ہے جو اس نعمت سے سرفراز ہو اور ارذل اور پس ماندہ وہ ہے جو اس نعمت سے محروم ہو،

اسی طرح ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کفار قریش آپ کے اصحاب کو ارذل اور گھٹیا کہتے تھے اور ہر زمانے میں انبیاء (علیہم السلام) کے پیرو کاروں کو متکبر لوگ ارذل اور گھٹیا کہتے رہے ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) کے زیادہ تر پیرو کار وہی ہوتے ہیں جن کو معاشرے میں کم حیثیت، بےوقعت اور گھٹیا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح الویاء اللہ جو انبیاء (علیہم السلام) کے علوم کے وارث ہوتے ہیں ان کا تعلق بھی معاشرہ کے اسی طبقہ سے ہوتا ہے جس کو پس ماندہ کہا جاتا ہے اور بہت کم مالدار لوگوں اور دنیاوی سرداروں کو ولایت کی دولت نصیب ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

ان اکرمکم عند اللہ اتقکم (الحجرات) اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور متقی ہے۔

آج ہمارے معاشرہ میں زیادہ عزت والا اس کو سمجھا جاتا ہے جو سرمایہ دار ہو، وزیر ہو، بینک یا کسی اور ادارہ میں بہت بڑا افسر ہو خواہ اس کی دولت، اسمگلنگ، جعلی اشیاء بنانے، سودی کا روبار، نشہ آور اشیاء کی فروخت اور رشوت سے حاصل ہوئی ہو، جو شخص جتنا زیادہ حرام ذرائع سے روزی حاصل کرنے والا ہو وہ اتنا بڑا عزت دار ہے اور جو زمین کھودنے والا، سڑکیں اور مکان بنانے والا مزدور ہو، محنت مشقت سے دیواروں پر نگ کرنے والا رنگریز ہو، جوتی کی مرمت کرنے والا موچی ہو جو اپنی محنت مشقت سے رزق حلال کھاتا ہو اس کو نچلے درجہ کا اور گھٹیا ذات کا سمجھا جاتا ہے اور اس کو اشراف میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ بڑے بڑے نامور علماء اور فقہاء اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو ان کے ان ہی پیشوں سے پکارا جاتا تھا۔ امام بزاز کپڑا بیچتے تھے، بزاز کپڑا بیچنے والے کو کہتے ہیں۔ امام خصاف جوتیوں کی مرمت کرتے تھے، خصاف جوتی مرمت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ امام حد اد لوہار تھے، حداد لوہار کو کہتے ہیں۔ امام غزالی کپڑا بنتے تھے اس کو غزای کہتے ہیں۔ علامہ قدوری مٹی کی ہنڈیا بناتے تھے اس کو قدوری کہتے ہیں جس کو لوگ کمہار کہتے ہیں۔ آج ان پیشوں کو گھٹیا اور باعث عار سمجھا جاتا ہے اور یہ فقہاء ان ہی پیشوں سے مشہور ہیں اور ان پر فخر کرتے تھے اور اللہ کے نزدیک یہی لوگ عزت والے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 111