أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوۡا الَّذِىۡۤ اَمَدَّكُمۡ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کو تم جانتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کو تم جانتے ہو اس نے تمہاری چو پایوں اور بیٹوں سے مدد کی اور باغوں سے اور چشموں سے بیشک مجھے تم پر عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے بربر ہے کہ آپ ہمیں نصیحت کریں یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہوں یہ صرف پہلے لوگوں کا طریقہ ہے اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا سو انہوں نے ھود کی تکذیب کو تو ہم نے ان کو ہلاک کرد یا ‘ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے بہت رحم فرمانے والا ہے (الشعرائ :132-140)

قوم ھود کا تکبر اور اس کا ہلاک ہونا 

اس پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ حضرت ھود ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ہر وانچی جگہ پر لھو لعب کی ایک یادگار تعمیر کر رہے ہو اور اس توقع پر مکان بنا رہے ہو کہ تم ہمیشہ رہو گے اور جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو سخت جبر سے پکڑتے ہو (الشعراء ٠٣١-٨٢١ )

اور ان تین باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اونچی جگہ پر مکان بنانا اس پر دلات کرتا ہے کہ وہ بلندی اور بڑائی پسند کرتے تھے اور مضبوط مکان بنانا اس پر دلا لت کرتا ہے کہ وہ دنیا کے دلدادہ تھے اور اس میں زیدہ سے زیادہ عرصہ رہنا چاہتے تھے بلکہ دوام چاہتے تھے اور ان کا شدس سے پکڑنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جابر اور شدید بننا چاہتے تھے اور تینوں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں یعنی تکر ‘ دوام اور جبر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بندگی کی حدود سے نکل کر ربو بیت کے مدعی تھے اس لیے فرمایا تم اللہ سے ڈرو اور میرے اطاعت کرو پھر ان کو غفلت سے جگا نے کے لیے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات گنوائے تاکہ ان کو اپنی نا سپاسی اور نا شکری پر ندامت ہو پھر ان کو آ خرت کے عذاب سے ڈرانے کے لیے فرمایا بیشک مجھے تم پر عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہو کیونکہ انسان یا تو کسی کیا نعام اور اکرام کی وجہ سے اس کی اطاعت کرتا ہے یا اس کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اس کی اطاعت حضرت ھود ( علیہ السلام) کے اس حکیمانہ خطاب کے جواب میں انہوں نے کہا ہمارے لیے برابر ہے کہ آپ ہمیں نصیحت کریں یا کرنے والوں میں سے نہ ہوں یہ صرف پہلے لوگوں کا طریقہ ہے ان کی مراد یہ تھی آپ خواہ ہمیں وعظ اور نصیحت کریں یا نہ کریں ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ‘ پھر انہوں نے اپنے موقف پر دلیل قائم کی کہ ہم جس دین اور جس طریقہ پر قائم ہیں یہ ہم سے پہلے لوگوں کا دین اور ان کا طریقہ ہے ہم ان ہی کی تقلید کررہے ہیں یا سا کا معنی یہ ہے کہ اسے پہلے بھی لوگو اسی طرح زند تھے اور مرجاتے تھے ہم بھی اسی طرح جیتے اور مرتے رہیں گے یا اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح پہلے لوگ اپنی طرف سے من گھڑت باتیں کرتے تھے آپ بھی اسی طرح من گھڑت باتیں کررہے ہیں پھر انہوں نے اپنے آپ کو اطمینان اور تسلی دلاتے ہوئے خود فریبی سے کہا اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا اور انہوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حشر اور حساب و کتاب کا نکار کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو انہوں نے ھود کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اللہ نے ایک تندو تیز ہوا بھیجی جس نے حضرت ھو ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیا ہوا بہت لطیف چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لطیف اور ضعیف چیز کے ذریعہ اتنی زبردست قوم کو ہلاک کردیا اور بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا ‘ جس طرح نمرود جیسے ظالم اور جابر بادشاہ کو ایک حقیر مچھر سے ہلاک کردیا۔ سو انسان کو چاہیے کہ اپنی طاقت پر گھمنڈ نہ کرے اور اس عزیز اور غالب سے ڈرتا رہے ‘ جو قادر وقیوم ہے جس کو کسی کی بڑائی اور تکبر پسند نہیں ہے۔ وہی حقیقت میں جبار اور متکبر ہے اور اس کے سوا کوئی جبار نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 132