أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَسۡــئَلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ‌ۚ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور میں اس (تبلیغ دین) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے

مواعظ اور خطابات پر اجرت لینے کا جواز 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (حضرت نوح نے کہا): اور میں اس (تبلیغ دین) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ (الشعرائ : ١٠٩)

یعنی میں نے اپنی کسی ضرورت یا لالچ کی بنا پر نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور تم تک دین کے احکام پہنچانے میں جو میں مشقت اٹھا رہا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں بلکہ اس محنت اور مشقت پر میں صرف اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کا طالب ہوں۔

بعض علماء نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ تبلیغ دین میں جو مشقت ہوتی ہے اس پر لوگوں سے معاوضہ لینا اور نذرانے وصول کرنا جائز نہیں ہے،

چناچہ علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

جو شخص اللہ کے عمل کرتا ہے وہ اس کا اجر غیر اللہ سے طلب نہ کرے، اس میں یہ اشارہ ہے کہ علماء جو انبیاء کے وارث ہیں وہ انبیاء (علیہم السلام) کے آداب کے ساتھ متصف ہوں، اور علوم کی اشاعت اور تبلیغ میں لوگوں سے کچھ طلب نہ کریں اور اپنی تعلیم، تدریس، وعظ اور خطابات سے کوئی نفع حاصل نہ کریں کیونکہ جو علماء اپنے مواعظ اور خطابات کا سننے والے مسلمانوں سے کوئی نذرانہ لیتے ہیں تو ان کے مواعظ سننے والوں کو کوئی برکت حاصل نہیں ہوتی اور نہ علماء کو وعظ سنا کر نذرانے لینے اور معمولی دنیاوی معاوضہ کے بدلہ میں دین فروخت کرنے سے کوئی برکت حاصل ہوگی۔(روح البیان ج ٦ ص ٣٧٥-٣٧٤ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢١ ھ )

ہر چند کہ علامہ اسماعیل حقی نے قرآن اور حدیث کی اجرت لینے میں صرف برکت کی نفی کی ہے جواز کی نفی نہیں کی، تاہم ہمارے نزدیک کی نفی بھی صحیح نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی قرآن مجید کی اجرت لینے کی اجازت دی ہے اور اکابر صحابہ کرام دینی خدمات کا معاوضہ لیتے رہے ہیں تو اس معاروضہ کو بےبرکت اور بےفیض کہنا کس طرح صحیح ہوگا !

امام بخاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے ایک حدیث سے روایت کی ہے اس کے آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے :

ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٧ مطبوعہ دار ارقم بیروت) جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں اجرت کی سب سے زیادہ مستحق اللہ کی کتاب ہے۔

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ عطاء بن السائب سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ صبح کو پکڑوں کی ایک گٹھڑی لے کر فروخت کرنے کے لئے بازار گئے۔ ان کی حضرت عمر اور ابو عبیدہ بن جراح سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا : اے خلیفہ رسول ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے کہا بازار ! ان دونوں نے کہا آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ مسلمانوں کے خلیفہ بن چکے ہیں، حضرت ابوبکر نے کہا پھر میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلائوں گا ؟ ان دونوں نے کہا کہ آپ چلیے ہم آپ کے لئے وظیفہ مقرر کرتے ہیں، پھر انہوں نے حضرت ابوبکر کے لئے ہر روز آدھی بکری اور سر اور پیٹ ڈھانپنے کا لباس مقرر کیا۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص ١٨٤ مطبوعہ دارصادر بیروت، الطباقت الکبریٰ ج ٣ ص ١٣٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا میں نے اپنے لئے بیت المال کو یتیم کے درجہ میں قرار دیا ہے جو مستغنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو ضرورت مندہو وہ کھالے۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص ٣٧٦ مطبوعہ دار صادر بیروت، الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص ٢٠٩ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اور جن روایات میں قرآن اور حدیث کی تعلیم پر اجرت لینے سے منع کیا گیا ہے وہ سب ضعیف ہیں، اس کی مکمل تفصیل شرح صحیح مسلم ج ٧ ص ١٠٧١-١٠٣٥ میں ملاحظہ فرمائیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 109