أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور میں ایمان والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں ،

امیر کافروں کی خوشنودی کے لئے غریب مسلمانوں کو نہ اٹھایا جائے 

اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متکبرین سے کہا : اور میں ایمان والوں کو دھتکارنے والا نہوں، اور میں تو صاف طور پر (عذاب سے) ڈرانے والا ہوں، (الشعرائ : ١١٥-١١٤)

اس آیت سے التزامی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے متکبرین نے ان سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لائیں تو ان بیوقعت اور گھٹیا لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھاویں کیونکہ ہم ان کے ساتھ نہیں بٹیھ سکتے۔ ان کے ساتھ بیٹھنے میں ہماری توہین ہے، تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میں ان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ میں تو صرف اللہ کا رسول ہوں جسے مکلفین کو ڈرانے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے اور کفر اور شرک اور گناہوں سے منع کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے، خواہ وہ امیروں سے ہو یا غریبوں سے، سوا امیروں کو قریب کرنے کے لئے غریب مسلمانوں کو دھتکارنا میرے لئے کب مناسب ہے بلکہ جس نے میرے پیغام کو قبول کرلیا وہی میرے قریب ہے اور جس نے میرے پیغام کو رد کردیا وہ مجھ سے بعید ہے۔

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کفار قریش کے متکبرین نے اسی طرح کہا تھا :

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم چند نفوس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے تو مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ان لوگوں کو اپنے پاس سے دھتکار دیں یہ ہم پر (برابری کی) جرأت نہ کریں، حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا : میں تھا اور ایک مسلمان ھذیل سے تھا، اور بلال تھے اور دو مسلمان اور تھے جن کا میں نام نہیں لے رہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں وہ آیا جو اللہ نے چاہا اور آپ نے اپن دل سے کوئی بات کی تو یہ آیت نازل ہوئی :

(الانعام : ٥٢) اور ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجیے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں، درآں حالیکہ وہ اس کی رضا طلب کرتے رہتے ہیں، ان کا حساب بالکل آپ کے ذمہ نہیں ہے اور آپ کا حسا سرموان کے ذمہ نہیں ہے۔ پس اگر (بالفرض) آپ نے ان کو دور کردیا تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے۔

اس آیت کی مکمل تفصیل اور تحقیق کے لئےتبیان القرآن ج ٣ ص ٤٨٩-٤٨٥ کا مطلاعہ فرمائیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 114