فَاِنْ اٰمَنُوۡا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡاۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیۡ شِقَاقٍۚ فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ﴿۱۳۷﴾ؕ

ترجمۂ کنزالایمان:پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں تو اے محبوب عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔

ترجمۂ کنزالعرفان:پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لے آئیں جیسا تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ صرف مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ تو اے حبیب!عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کافی ہوگا اور وہی سننے والا جاننے والاہے۔

{بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ: تمہارے ایمان کی طرح۔} یہودیوں کو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرح ایمان لانے کا فرمایا:،اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ایمان بارگاہِ الٰہی میں معتبر اور دوسروں کیلئے مثال ہے۔ 

{فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُ: تو عنقریب اللہ تمہیں ان کی طرف سے کفایت فرمائے گا۔} یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبربھی ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتوحات کا پہلے سے اظہار فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی، کفار کے حسد و دشمنی اور ان کی مکاریوں سے حضورپر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کوئی ضرر نہ پہنچا۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فتح نصیب ہوئی، بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے جبکہ بنی نَضِیْر جلا وطن کئے گئے اوریہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔