أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَتَاۡتُوۡنَ الذُّكۡرَانَ مِنَ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو

جنسی اعضاء اور جنسی عمل کا ذکر اشارہ اور کنایہ سے کرنے کی تلقین 

اس کے بعد ذکر ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اہل سدوم سے کہا : کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو ! (الشعرائ : ١٦٥ )

اس سے مراد یہ ہے کہ تم مردوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے ہو ‘ جنسی خواہش پوری کرنے کو کنایۃ آنے سے تعبیر فرمایا ہے ‘ جس طرح اس آیت میں ہے :

ترجمہ (البقرہ : ٢٢٣) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ‘ تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح سے چاہو آئو۔

یہاں بھی کھیتیوں سے مراد اپنی بیویوں سے جماع کرنا ہے جس کو کنایۃ کھیتیوں میں آنے سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنسی خواہش پوری کرنے کو الفاظ میں بیان کرنا ہو تو کھلے کھلے لفظوں میں ذکر کرنے کے بجائے اشارے اور کنائے میں اس کا ذکر کرنا چاہیے اور شرم و حیاء اور حجاب کو قائم رکھنا چاہیے۔

اس آیت سے مراد یہ ہے کہ تم اولاد آدم میں سے مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو، حالانکہ ان کے شہر میں عورتیں بہت زیادہ تھیں۔ ہم سورة الاعراف میں یہ بیان کرچکے ہیں کہ ابلیس نے ان کو اس خبیث عمل کی تعلیم دی تھی اور وہ اس شہر میں آنے والے مسافروں کو پکڑ کر ان کے ساتھ یہ خبیث عمل کیا کرتے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 165