أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَتُتۡرَكُوۡنَ فِىۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کیا تم یہاں کی چیزوں میں امن کے ساتھ رہتے رہو گے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت صالح نے کہا) کیا تم یہاں کی چیزوں میں امن کے ساتھ رہتے رہو گے۔ باغوں میں اور چشموں میں۔ کھیتوں میں اور کھجور کے درختوں میں ‘ جن کے خوشے نرم ہیں۔ اور تم خوشی سے اتراتے ہوئے پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ تو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (الشعراء : ١٥٠۔ ١٤٦ )

جسمانی اور روحانی لذتیں 

ان آیات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ھود کے اوپر عقلی اور معنوی لذات غالب تھیں کیونکہ وہ سربلندی کو ‘ ہمیشہ رہنے کو ‘ انفرادیت کو اور تکبر کو پسند کرتی تھی اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم پر حسی اور ظاہری لذات غالب تھیں کیونکہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو اور اچھی رہائش کو پسند کرتی تھی اور یہ اھل دنیا کی لذتوں میں سے لذتیں ہیں اور آخرت کی لذتیں ان تمام لذتوں سے بالاتر ہیں۔ یہ علوم اور معارف کی قلبی اور روحانی لذتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے ذکر و فکر کی لذتیں ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور وارفتگی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کی لذتیں ہیں ‘ جن میں ہر وقت یہ جی چاہتا ہے کہ انسان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنتوں میں جذب ہوجائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیکر میں ڈھل جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 146