أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ لُوۡطٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

جب ان سے ان کی ہم قوم لوط نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے ؟

الشعراء ١٦١‘ میں حضرت لوط کو اس قوم کا بھائی فرمایا ہے۔ یہاں بھائی کا معنی ہم قبیلہ نہیں ہے ‘ جیسا کہ بعض مترجمین نے لکھا ہے کیونکہ حضرت لوط باہر سے اس علاقہ میں آئے تھے۔ ان کا تعلق ان کے نسب سے تھا نہ ان کے وطن سے تھا۔ یہاں پر بھائی کا اطلاق صرف مشفق کے معنی میں کیا گیا ہے کیونکہ بھائی ‘ بھائی پر شفیق اور مہربان ہوتا اور حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اس قوم پر مشفق اور مہربان تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 161