أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌ ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

حدود کے نفاذ کا رحمت ہونا 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (الشعرائ : ١٧٤) یعنی قوم لوط کو جو عذاب دیا گیا اس میں بعد والی نسلوں کے لئے عبرت کا سامان ہے تاکہ وہ اس قسم کی بدکاری اور ایسے قبیح فعل کے ارتکاب سے باز رہیں تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو قوم لوط پر آیا تھا۔ پھر فرمایا اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔

اس بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کے سوا اور کوئی مومن نہیں تھا ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) مومن تھے اور ان کی دو بیٹیاں اور ان کے داماد مومن تھے۔ (الجامع لاحکام القران جز ١٣ ص ١٢٤‘ روح البیان ج ٦ ص ٣٨٩)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 174