۹؍تاریخ کے معمولات

۹؍تاریخ کو صبح مستحب وقت میں نماز پڑھ کر لبیک وذکر اور درود شریف میں مشغول رہے یہاں تک کہ آفتاب کو ہِ ثبیر( پہاڑ کا نام ) پر جو مسجد خیف کے سامنے سے چمکے اب عرفات کو چلیں، دل کو خیالِ غیر سے پاک کرنے کی کوشش کریں کہ آج وہ دن ہے کہ بندوں کا حج قبول کیا جائے گا اورنہ جانے کتنوں کو ان کے صدقہ میں بخش دیاجائیگا۔ محروم وہ ہے جو آج محروم رہا، اگروسوسے آئیں تو لڑائی نہ کرو کہ یوں بھی دشمن کا مقصدپوراہوگا وہ تو یہی چاہتا ہے کہ آ ٓپ کسی اور خیال میں لگ جائو بلکہ وسوسوں کی طرف دھیان ہی نہ دیں۔ انشاء اللہ وہ مردود، شیطان ناکام ہی واپس جائے گا۔ راستے بھر ذکر و درود میںمصروف رہیں، بے ضرورت کوئی بات نہ کریں، لبیک کی بار بار کثرت کریں اور منیٰ سے نکل کر یہ دعا پڑھیں۔

اَللّٰہُمَّ اِلَیْکَ تَوََجََّھْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَ کَّلْتُ وَلِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْ ذَمنْبِیْ مَغْفُوْراًوَّ حَجِّیْ مَبْرُوْرًاوَّارْحَمْنِیْ وَلَا تُخَیِّبْنِیْ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ سَفَرِیْ وَا قْضِ بِعَرْفَاتٍ حَاجَتِیْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا اَقْرَبَ غَدْوَتِھَا مِنْ رِّضْوَانِکَ وَاَبْعَدَ ھَا مِنْ سَخَطِکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ غَدَوْتُ وَعَلَیْکَ اِعْتَمَدْتُّ وَ وَجْھَکَ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تُبَاھِیْ بِہٖ الْیَوْمَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنِّیْ وَ اَفْضَلَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَۃَ وَ الْمُعَا فَاۃَ الدَّائِمَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَ الآخِرَۃِ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَo

اے اللہ میں تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھ پر میں نے توکل کیا اور تیرے وجہ کریم کا ارادہ کیا، میرے گناہ بخش اور میرے حج کو مبرور کر اور مجھ پر رحم کر اور مجھے ٹوٹے میں نہ ڈال اور میرے لئے میرے سفر میں برکت دے اور عرفات میں میری حاجت پوری کر بے شک تو ہر شئی پر قادر ہے۔ اے اللہ میرا چلنا اپنی خوشنودی سے قریب کر اور اپنی ناخوشی سے دور کر، الٰہی میں تیری طرف چلا اور تجھی پر اعتماد کیا اور تیری ذات کا ارادہ کیا، تو مجھ کو ان میں سے کر جن کے ساتھ قیامت کے دن تو مباہات (فخر)فرمائے گا جو مجھ سے بہتر و افضل ہیں۔ الٰہی! میں تجھ سے عفو وعافیت کا سوال کرتا ہوں اور اس عافیت کا جو دنیا و آخرت میں ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ درود بھیجے بہترین مخلوق محمدا اور ان کی آل و اصحاب پر۔

جب جبل رحمت پر نگاہ ٹھہرے دعا کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ وقت قبول ہے عرفات میں اس پہاڑ کے پاس ہی جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اتریں آج ہجوم میں لاکھوں آدمی ہزاروں ڈیرے، خیمے ہوتے ہیں اپنے ڈیرے کا ملنا دشوار ہوتا ہے اس لئے پہچان کا نشان اس پر قائم کردیں کہ دور سے نظر آئے مستورات ساتھ ہو ں تو ان کے برقعہ پر بھی کوئی کپڑا خاص علامت چمکتے ہوئے رنگ کا لگادیں کہ دور سے دیکھ کر تمیز کرسکیں اور دل میں کھٹکا نہ رہے۔ دوپہر تک زیادہ وقت اللہ کے حضورگریۂ و زاری نیز حسب طاقت صدقۂ و خیرات و ذکر و لبیک ودرود، دعا، استغفار و کلمئہ توحید میںمشغول رہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ا فرماتے ہیں سب میں بہتر وہ دعاجو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہ السلام نے کی، یہ ہے۔

لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیٖی وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَایَمُوْتُ بِیَدِہٖ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اور چاہے تو اس کے ساتھ یہ بھی کہیں ’’لَا نَعْبُدُ اِلَّااِیَّاہُ وَلَانَعْرِفُ رَبًّا سِوَاہُ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا اَللّٰھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْ لِیْْ اَمْرِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّسَاوِسِ الصُّدُوْرِ وَ تَشْتِیْتِ الْاَمْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا یَلِجُ فِیْ اللَّیْلِ وَ شَرِّ مَایَلِجُ فِی النَّھَارِ وَ شَرِّمَا تَھَبُّ بِہٖ الرِّیْحُ وَ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّھْرِ، اَللّٰھُمَّ ھٰذَا مُقَامُ الْمُسْتَجِیْرِ الْعَائِذِ مِنَ النَّارِ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ لِعَفْوِکَ وَ اَدْخِلْنِیْ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِذْ ھَدَیْتَنِیْ الْاِسْلَامَ فَلاَ تَنْزِعُہٗ عَنِّیْ حَتّٰی تَقْبِضَنِیْ وَاَنَا عَلَیْہِ۔

اس کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے اور اس کے سوا کسی کو رب نہیں جانتے اے اللہ !تو میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کان اور نگاہ میں نور پیدا کر اے اللہ! میرے سینے کو کھو ل دے اور میرے امر کو آسان کر، اور تیری پناہ مانگتا ہوں سینے کے وسوسوں اور کام کی پراگندگی اور عذاب قبر سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جو رات اور دن میں داخل ہوتی ہے اور اس کے شر سے جس کے ساتھ ہوا چلتی ہے اور آفاتِ زمانہ کے شر سے، اے اللہ !یہ امن کے طالب اور جہنم سے پناہ مانگنے والے کھڑے ہونے کی جگہ ہے اپنے عفو کے ساتھ مجھ کو جہنم سے بچا اور اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان! اے اللہ !جب تو نے اسلام کی طرف مجھے ہدایت کی تو اس کو مجھ سے جدا نہ کرنا یہاں تک کہ مجھے اسلام پر وفات دینا۔

ضروری گزارش

دوپہر سے پہلے کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے فارغ ہولیں کہ دل کسی طرف نہ لگا رہے۔ آج کے دن جیسے حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف پیدا ہوگا۔ یونہی پیٹ بھر کھانابھی سخت زہر اور غفلت وسستی کا باعث ہے تین روٹی کی بھوک والا ایک ہی کھائے۔ نبیٔ اکرم ا نے تو ہمیشہ کے لئے یہی حکم دیا ہے اور خود اسی پر عمل بھی فرمایا کہ جو کی روٹی کبھی پیٹ بھر نہ کھائی حالانکہ اللہ کے حکم سے تمام جہان پر قبضئہ واختیار ہے۔ انوار وبرکات ہمیشہ حاصل کرنے میں سہولت کے لئے بہتر تو یہ ہے کہ نہ صرف آج بلکہ حرمین شریفین میں جب تک حاضر رہیں تہائی پیٹ سے زیادہ ہر گز نہ کھائیں۔ توان شاء اللہ اس کا فائدہ آنکھوں سے دیکھ لیںگے۔ جب دوپہر کا وقت قریب آئے تو نہا لیں کہ سنت مؤکدہ ہے اور نہ ہوسکے تو صرف وضو ہی کرلیں۔

موقوف

یعنی وہ جگہ کہ جہاں نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک کھڑے ہوکر ذکرو دعا کا کرنے کاحکم ہے اس جگہ روانہ ہوجائے اور ممکن ہوتو اونٹ پر جائے کہ سنت بھی ہے اور ہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی ہے۔ بعض مطوع اس مجمع میں جانے سے منع کرتے ہیں اور طرح طرح سے ڈراتے ہیں ان کی نہ سنیں کہ وہ خاص نزول رحمت کی جگہ ہے ہاں عورتیں اور کمزور مرد یہیں سے کھڑے ہوکر دعا میں مشغول ہوں کہ بطن ِعرفہ کے سوا یہ سارامیدان موقوف ہے اور یہ لوگ بھی یہی تصور کریں کہ ہم اس مجمع میں حاضر ہیں اپنے کو الگ نہ سمجھیں اس مجمع میں یقیناً بکثرت اولیاء بلکہ دو نبی بھی موجود ہیں یہ تصور کریں کہ انواروبرکات جواس مجمع میں اُن پر اتر رہے ہیں ان کا صدقہ ہم بھکاریوں کو بھی مل رہا ہے۔ افضل یہ ہے کہ جبل رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے قبلہ رُو کھڑاہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یا کسی کواذیت نہ ہو، ورنہ جہاں جس طرح ہوسکے وقوف کرے یہ وقوف ہی دراصل حج کی جان ہے اور اس کا بڑا رکن ہے وقوف کے لئے کھڑارہنا افضل ہے شرط یا واجب نہیں۔ اگر کوئی بیٹھا جب بھی وقوف ہوگیا۔ وقوف میں نیت اورقبلہ ُرو ہوناافضل ہے۔ بعض نادان یہ کرتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ جاتے اور وہاں کھڑے ہو کر رومال ہلا تے رہتے ہیں ان سے بچو اور ان کی طرف بھی برا خیال نہ کرو یہ وقت اوروں کے عیب دیکھنے کا نہیں اپنے عیبوں پر شرم ساری اور گریہ ٌٔٔوزاری کا ہے اب وہ لوگ جو یہاں ہیں اور وہ لوگ جو ڈیروں میں ہیں سب ہمہ تن صدق دل سے اپنے کریم، مہربان رب کی طرف متوجہ ہوجائیںاور میدانِ قیامت میں حساب اعمال کے لئے اس کے حضورحاضری کا تصور کریں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتے کانپتے ڈرتے امید کرتے آنکھیں بند کئے گردن جھکائے دستِ دعا آسمان کی طرف سرسے اونچا پھیلائے تکبیرو تہلیل وتسبیح ولبیک وحمدوذکرو دعا وتوبہ واستغفار میں ڈوب جائے۔ کوشش کرے کہ ایک قطرہ آنسوں کاٹپکے کہ دلیل اجابت وسعادت ہے ورنہ رونے کے جیسا منہ بنائے کہ اچھوں کی صورت بھی اچھی ہوتی ہے اثنائے دعا وذکر میں لبیک کی باربار تکرار کرے آج کے دن دعائیں بہت منقول ہیں اور جامع دعائیںجو اوپر گزریں کافی ہیں۔ چند بار اسے کہہ لو اور سب سے بہتر یہ کہ سارا وقت درود وذکر وتلاوت قرآن میں گزار دو کہ بہ وعدئہ حدیث دعاوالوں سے زیادہ پائوگے۔ نبی ا کا دامن پکڑو، غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے توسل کرو، اپنے گناہ اور اللہ رب العزت کی قہاری یاد کرکے خوب لرزو اور یقین جانو کہ اس کی مار سے اسی کے پاس پناہ ہے اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے اس کے در کے سواکہیں ٹھکانہ نہیں لہٰذا ان شفیعوں کا دامن پکڑو اور اس کے عذاب سے اسی کی پناہ مانگواور اسی حالت میں رہو کہ کبھی اس کے غضب کی یاد سے جی کانپ جاتا ہے اور کبھی اس کی رحمت عامہ کی امید سے مرجھایا دل نہال ہوجاتاہے یوں ہی گریۂ وزاری میں رہو یہاں تک کہ آفتاب ڈوب جائے اور رات کا ایک لطیف جز آجائے۔ اس سے پہلے کوچ منع ہے بعض جلدباز دن ہی میں چل دیتے ہیں ان کا ساتھ ہرگز نہ دیں۔ کیا معلوم کہ رحمت الٰہی کس وقت توجہ فرمائے اگر تمہارے چل دینے کے بعد اتری تو کیساعظیم خسارہ ہے اور غروب سے پہلے حدود عرفات سے نکل گئے جب تو پورا جرم ہے۔ بعض مطوع یہاں یوں ڈراتے ہیں کہ رات میں خطرہ ہے یہ ایک دو کے لئے ٹھیک ہے اور جب سارا قافلہ ٹھہرے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ کچھ اندیشہ نہیں۔ اس مقام پر پڑھنے کے لئے بعض دعائیں لکھی جاتی ہیں۔

دعا :

اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ

تین مرتبہ پھر کلمۂ توحید اس کے بعد یہ دعا۔

اَللّٰہُمَّ اِہْدِنِیْ بِالْہُدَیٰ وَنَقِّنِیْ وَاعْصِمْنِیْ بِالتَّقْویٰ وَاغْفِرْلِیْ فِیْ الْآخِرَۃِ وَالاُوْلیٰ

ترجمہ:اے اللہ مجھ کو ہدایت کے ساتھ رہنمائی فرما اور پاک کر پرہیز گاری کے ساتھ گناہ سے محفوظ رکھ اور دنیا وآخرت میں میری مغفرت فرما۔ پھر تین بار یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ حَجّاً مَّبْرُوْراًوَّذَم نْباً مَغْفُوْرًا اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُکَالَّذِیْ نَقُوْلُ وَخَیْرًامِّمَّا نَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ لَکَ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ وَاِلَیْکَ رَبِّ تُرَاثِیْ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَوَسْوَسَۃِ الصُّدُوْرِ وَشَتَّاتِ الاُمُوْرِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَجِئُی بِہٖ الرِّیْحُ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِئُی بِہِ الرِّیْحُ اَللّٰہُمَّ اِہْدِنَا بِالْہُدیٰ وَزَیِّنَّا بِالتَّقْوٰی َواغْفِرْلَنَا بِالآخِرَۃِ وَالاُوْلٰی، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِزْقاً طَیِّباً مُّبَارَکاً،اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ اَمَرْتَ بِالدُّعَائِ وَقَضَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ بِالْاِجَابَۃِ وَاِنَّکَ لَاتُخْلِفُ المِیْعَادَ وَلَاتُنْکِثُ عَہْدَکَ، اَللّٰہُمَّ مَا اَحْبَبْتَ مِنْ خَیْرٍ فَحَبِّبْہُ اِلَیْنَا وَجَنِّبْنَاہٗ وَلَا تَنْزِعْ عَنَّااْلِاسْلَامَ بَعْدَ اِذْہَدَیْتَنَا، اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ تَریٰ مَکَانِی وَتَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلاَ نِیَتِیْ وَلاَیَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْیٌٔمِّنْ اَمْرِنَااَلْبَائِسُ الفَقِیْرُ المُسْتَغِیْثُ المُسْتَجِیْرُ الوَجْلُ المُشْفِقُ المُقِرُّ المُعْتَرِفُ بِذَنْبِہٖ اَسْئَلُکَ مَسْأَلَۃَمِسْکِیْنٍ وَاَبْتَہِلُ اِلَیْکَ اِبْتِہَالَ المُذْنِبِ الذَّلِیْلِ وَاَدْعُوْکَ دُعَا ئَ الخَائِفِ المُضْطَرِّدُعَآئَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رُکْبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَکَ عَیْنَا ہٗ وَنَحَّلَ لَکَ جَسَدُ ہٗ وَرَغِمَ اَنْفُہٗ اَللّٰہُمَّ لاَ تَجْعَلْنِیْ بِدُعَائِکَ رَبِّیْ شَقِیًّا وَّکُنْ بِیْ رَؤُوْفاًرَّحِیْماً یَا خَیْرَالمَسْئُوْلِیْنَ وَخَیْرَالمُعْطِیِیْنَ۔

اے اللہ اسے حج مبرور کر اور گناہ بخش دے الٰہی تیرے لئے حمد ہے جیسے ہم کہتے اور اس سے بہتر جس کو ہم کہتے ہیں، اے اللہ میری نمازوعبادت اور میرا جینا مرنا تیرے ہی لئے ہے اور تیری ہی طرف میری واپسی ہے اوراے پروردگار تو ہی میرا وارث ہے اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر اور سینہ کے وسوسے اور کام کی پراگندگی سے الٰہی میں سوال کرتا ہوں اس چیز کی خیر کا جس کو ہوا لائی ہے اور اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جسے ہوا لاتی ہے الٰہی ہدایت کی طرف ہماری رہنمائی فرما اور تقویٰ سے مزین کر اور د نیا و آخرت میں ہم کو بخش دے الٰہی میں پاکیزہ اورمبار ک رزق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں الٰہی تو نے دعاکرنے کا حکم دیا ہے اور قبول کرنے کا ذمّہ تونے خود لیا اور بے شک تووعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور اپنے عہد کو نہیں توڑتا، الٰہی جو اچھی باتیں تجھے محبوب ہیں انہیں ہمارے لئے بھی محبوب کر دے اور ہمارے لئے میسر کر او ر جو باتیں تجھے ناپسند ہیں ہم کو ان سے بچا، اور اسلام کی طرف تونے ہدایت فرمائی تو اس کو ہم سے جدا نہ کر الٰہی تو میرے مقام کو دیکھتا ہے اور میرا کلام سنتا اور میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جا نتا ہے میرے کام میں کوئی شئی تجھ پر مخفی نہیں میں نامرا د، محتاج، فریاد کرنے والا، پناہ چاہنے والا، خوف سے ڈرنے والا، اپنے گناہ کا معترف ہوں مسکین کی طرح تجھ سے سوال کرتا ہوں اور گناہگارذلیل کی طرح تجھ سے عاجزی کرتا ہوں اورڈرنے والے مضطر کی طرح تجھ سے دعا کرتا ہوں اس بند ے کی مثل جس کی گردن تیرے لئے جھک گئی اور آنکھیں جاری اوربدن لا غر اور ناک خاک میں ملی ہے اے پروردگار تو مجھے بدبخت نہ کر اور مجھ پر بہت بہت مہربان ہوجا، اے بہتر سوال پر بہتر دینے والے۔

مخصوص دعائیں

جو روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مذکور ہو چکی ہے اس میں جو دعائیں ہیں انہیں بھی پڑھے یعنی،

’’لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ۔ لَہٗ المُلْکُ وَلَہٗ الحَمْدُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ‘‘ (۱۰۰) بار

’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ سَیِّدِنَا اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ سَیِّدِ نَا اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَّعَلَیْنَا مَعَہُمْ (۱۰۰) بار

حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا میری اور ا نبیاء کی دعا عرفہ کے دن کی یہ ہے :

لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ۔ لَہٗ المُلْکُ وَلَہٗ الحَمْدُ یُحْیٖ وَیْمِیْتُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ سَمْعِیْ نُوْراً وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْراً وَّفِیْ قَلْبِیْ نُوْراً اَللّٰہُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَتَشْتِیْتِ الْاَمْرِ وَعَذَابِ القَبْرِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِیْ اللَّیْلِ وَ النَّہَارِ وَشَرِّ مَا تَہُبُّ بِہِ الرِّیْحُ وَشَرِّ بَوَائِقِ الدَّہْرِ۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے، وہی لائق حمد ہے، وہی مار تا جلاتا ہے۔ اور ہر چیز اسی کے قابو میں ہے۔ اے اللہ میرے کان، آنکھ اور دل کو نور سے منور فرما۔ اے اللہ میرا سینہ کھولدے، اور میرا کام آسان کردے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں سینہ کے وسوسوں اور کام کی پراگندگی اور عذابِ قبر سے اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے جو رات و دن میں داخل ہوتی ہے اور اس کی برائی سے جسے ہوا اڑالاتی ہے اور آفاتِ دہر کی برائی سے۔

اس مقام پرپڑھنے کی بہت دعائیں کتابوں میں مذکور ہیں مگر اتنی ہی کفایت ہے اور درود شریف وتلاوت قرآن مجید سب دعائوں سے زیادہ مفید ہے ایک ادب واجب الحفظ اس روز کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے وعدوں پر بھروسہ کرکے یقین کرے کہ آج میں گناہوںسے ایسا پاک ہوگیا جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا اب کوشش کروکہ آئندہ گناہ نہ ہوں، اور جو داغ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے میری پیشانی سے دھویا ہے پھر نہ لگے۔

خبردار! کہیں حج برباد نہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ویسے تو بد نگاہی ہمیشہ ہی حرام ہے۔ مگر احرام میںیا موقف یا مسجد حرام یا کعبۂ معظمہ کے سامنے یا طواف بیت الحرام میں۔ خصوصاً نگاہ کی حفاظت کریں، یہ تمہارے امتحان کا موقع ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیاکہ یہاں منہ نہ چھپائو اور تمہیں حکم دیا گیا کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو یقین جا نو کہ یہ بڑے غیرت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں۔ اور اس وقت تم اور وہ خاص دربار میں حاضر ہو۔ بلا شبہ شیرکا بچہ اُس کی بغل میںہو تو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اٹھا سکتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ واحدو قہار کی کنیزیں اس کے خاص دربار میںحاضر ہیں ان پر بد نگاہی کس قدر سخت ہوگی۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ! ہاں ہاں ہوشیار ایمان بچائے ہوئے، قلب ونگاہ سنبھالے ہوئے، حرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادہ پر بھی پکڑا جاتا ہے او ر ایک گناہ ایک لاکھ گناہ کے برابرہوتا ہے۔ اللہد اپنے پیارے محبوب ا کے صدقہ و طفیل خیر کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ