باب القصد فی العمل

عمل میں میانہ روی کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قصد کے معنی ارادہ بھی ہیں اور درمیانی رفتار بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے۔خیال رہے کہ فرائض و واجبات تو رب تعالٰی کی طرف سے مقرر ہیں ان میں زیادتی یا کمی ہوسکتی ہی نہیں نوافل میں بندے کو اختیار دیا گیا ہے چاہیئےکہ بندہ اتنے نفل اختیار کرے جو نباہ سکے نہ ایک دم زیادہ نہ بالکل کم اسی کا نام قصد ہے اور یہاں عمل سے مراد نفلی عمل ہیں،درمیانی چال دین و دنیا میں مفید ہے۔

حدیث نمبر 479

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں اتنا افطار فرماتے کہ گمان ہوتا آپ اس میں کوئی روزہ نہ رکھیں گے اور روزے رکھتے حتی کہ گمان ہوتا کہ آپ اس میں بالکل افطار نہ کریں گے ۱؎ تم رات میں آپ کو نماز پڑھتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے اور سوتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے ۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے سوا کسی مہینہ میں سارا ماہ روزے نہ رکھتے تھے بلکہ کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے اور کچھ مسلسل افطار۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ داؤدی کی تعریف فرمائی یعنی ہمیشہ ایک دن روزہ ایک دن افطار مگر خود اپنا یہ عمل ہے۔معلوم ہوا کہ روزہ داؤ دی سنت قولی ہے اور اس طرح روزے سنت فعلی اس کا ثواب زیادہ اس عمل کا قرب زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ بیٹھ کر پڑھنے کا قرب زیادہ کہ یہ عملی ہے۔

۲؎ یعنی نہ تمام رات سوتے تھے نہ تمام رات جاگتے تھے اول رات سوتے اور آخر رات جاگتے اور بعد تہجد پھر سوجاتے۔