أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ان کو عذاب نے پکڑ لیا ‘ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔ (الشعرائ : ١٥٨ )

قوم عاد میں سے مردوں اور عورتوں کو ملا کردو ہزار آٹھ سو افراد ایمان لائے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ چار ہزار آدمی ایمان لائے تھے۔ کعب احبار نے کہا ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے بارہ ہزار قبیلے تھے اور ہر قبیلہ میں عورتوں اور بچوں کے سوا بارہ ہزار مرد تھے اور قوم عاد ان سے چھ گنا زیادہ تھی۔ (اجامع لاحکام القرآن جز ١٣ ص ١٢٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 158