أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

پھر بھی انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پس وہ پچھتائے

قوم ثمود کا اونٹنی کو قتل کرنا اور ان کا عذاب سے ہلاک ہونا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر بھی انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پس وہ پچھتائے۔ (الشعراء : ١٥٧ )

اس آیت میں ہے فعقروھا ‘ عقر کا معنی ہے کونچیں کاٹنا ‘ پائوں کے جو پٹھے پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں ان کو کونچیں کہتے ہیں۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ جب اونٹ کو ذبح کرنا مقصود ہوتا تھا تو پہلے اس کی کونچیں کاٹتے تھے تاکہ وہ بھاگ نہ جائے پھر اس کو نحر کرتے تھے یعنی اس کو کھڑا کرکے اس کے سینہ کے بالائی حصہ پر نیزہ مارتے تھے یا ذبح کرتے تھے۔

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

امام محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ وہ اس اونٹنی کی گھات میں بیٹھے ہوئے تھے اور قدار اس کے راستے میں ایک چٹان کی جڑ میں چھپا بیٹھا تھا اور مصدع دوسری جڑ میں چھپا ہوا تھا۔ وہ اونٹنی مصدع کے پاس سے گزری۔ اس نے تاک کر اس کو تیر مارا۔ وہ تیر اس کی پنڈلی کے گوشت میں جا کر پیوست ہوگیا۔ پھر قدار نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ وہ اونٹنی گر پڑی۔ وہ چیخ چیخ کر اپنے بچے کو خبردار کررہی تھی۔ پھر انہوں نے اس کے سینہ کے بالائی حصے پر وار کرکے اس کو نحر کردیا اور اس کا بچہ چیختا ہوا پہاڑوں میں گم ہوگیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو دیکھا اونٹنی قتل کی جاچکی تھی۔ وہ رونے لگے اور کہنے لگے تم نے اللہ کی حرمت کو پامال کردیا۔ اب تم کو اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی بشارت ہو !(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٨٧٨)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ وعید سنائی کہ وہ اپنے گھر میں تین دن تک عیش کرلیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وعید تھی جو جھوٹی نہیں تھی۔ پھر ایک زبردست چنگھاڑ آئی اور زمین کے مشارق اور مغارب میں جس قدر لوگ تھے وہ سب ہلاک کردیئے گئے۔ سوا ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا۔ اس کو اللہ کے حرم نے عذاب سے بچا لیا۔ آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون شخص تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ ابورغال تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٨٧٠)

ابن عطا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اس اونٹنی کو ذبح کردیا تو حضرت صالح نے ان سے فرمایا ‘ تم پر عذاب آنے والا ہے۔ انہوں نے پوچھا اس عذاب کی کیا علامت ہے ؟ حضرت صالح نے فرمایا اس کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے سرخ ہوجائیں گے اور دوسرے دن تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے اور تیسرے دن تمہارے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ پھر پہلے دن جب صبح ہوئی تو وہ ایک دوسرے کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ اے فلاں شخص ! تمہارا چہرہ سرخ کیوں ہوگیا ؟ اور جب دوسرا دن ہوا تو ان کے چہرے زرد ہوگئے اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے اے فلاں شخص ! تمہارا چہرہ زرد کیوں ہوگیا ؟ اور تیسرے دن ان کے چہرے سیاہ ہوگئے ‘ پھر وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ تمہارا چہرہ سیاہ کیوں ہوگیا ؟ حتیٰ کہ ان کو عذاب کا یقین ہوگیا۔ پھر انہوں نے خوشبو لگا لی ‘ کفن پہنے اور اپنے گھروں میں ٹھہر گئے۔ پھر حضرت جبریل نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے جسموں سے ان کی روحیں نکل گئیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٨٨٠)

حضرت صالح (علیہ السلام) پر بالغ ہونے کے بعد وحی نازل ہوئی اور ان کو حضرت ھود (علیہ السلام) کے ایک سو سال بعد مبعوث کیا گیا تھا اور وہ دو سو بیس سال زندہ رہے۔ (روح البیان ج ٦ ص ٣٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

قوم ثمود کے نادم ہونے کے باوجود ان پر عذاب آنے کی توجیہ 

الشعرائ : ١٥٧ میں فرمایا ہے : انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ پھر وہ پچھتائے اور نادم ہوئے۔ اس جگہ یہ اعتراض ہے کہ جب وہ نادم ہوگئے تھے تو پھر ان پر عذاب کیوں نازل کیا گیا ؟ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک جواب یہ ہے کہ ان کی ندامت توبہ کرنے والوں کی ندامت نہ تھی بلکہ وہ ڈرنے والوں اور خوف زدہ لوگوں کی ندامت تھی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ان کی ندامت توبہ کرنے والوں کی ندامت بھی ہو تو وہ اس وقت نادم ہوئے جب ان کا نادم ہونا سودمند نہ تھا کیونکہ عذاب کا مشاہدہ اور معائنہ کرنے سے پہلے توبہ مفید ہوتی ہے اور انہوں نے عذاب کا مشاہدہ اور معائنہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی۔ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (النساء : ١٨)… ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برے کام کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ 

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ قوم عاد کے سواروں اور پیادوں نے عدن سے لے کر عمان تک کے علاقے کو بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا تو ان کی وراثت کو میری ان دو جوتیوں کے بدلہ میں بھی کون خریدے گا۔ پھر وہ خود کہتے کہ کوئی نہیں خریدے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٨٨٢)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ان کی ندامت سے ان کو اس لئے فائدہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے ندامت کے باوجود توبہ نہیں کی بلکہ جب ان کو عذاب کا یقین ہوگیا تو پھر حضرت صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لئے انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ ایک جواب یہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے پر نادم نہیں تھے بلکہ اس پر نادم تھے کہ انہوں نے اونٹنی کے ساتھ ہی اس کے بچہ کو بھی کیوں قتل نہیں کردیا اور اس کو نکل کر بھاگنے کا موقع کیوں دیا ‘ لیکن یہ جواب بعید ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 157