أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَـكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

صالح نے کہا یہ اونٹنی ہے ‘ ایک دن اس کے (پانی) پینے کا ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے (پانی) پینے کا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : صالح نے کہا یہ اونٹنی ہے۔ ایک دن اس کے (پانی) پینے کا ہے اور ایک (مقررہ) دن تمہارے پانی پینے کا ہے۔ تم اس کے ساتھ کوئی برائی نہ کرنا ‘ ورنہ بڑے دن کا عذاب تم کو پکڑے لے گا۔ پھر بھی انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پس وہ پچھتائے۔ سو ان کو عذاب نے پکڑ لیا۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔ بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (الشعرائ : ١٥٩۔ ١٥٥ )

حضرت صالح کا چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھانا 

روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس چٹان سے ایک دس ماہ کی حاملہ اونٹنی نکلے اور وہ فوراً ایک بچہ جن دے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) بیٹھ کر ان کے اس مطالبہ پر غور کرنے لگے۔ تب ان سے حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آ کر کہا : آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ اس پتھر سے اونٹنی نکال دے تو اس چٹان سے ایک اونٹنی نکلی اور ان کے سامنے آ کر بیٹھ گئی اور فوراً اس سے ایک بچہ پیدا ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٢٥‘ جز ١٩ ص ١٧١۔ ١٧٠)

امام عبدالرحمٰن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیساتھ غزوہ تبوک میں گئے ہوئے تھے ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام حجر میں پہنچ کر فرمایا ‘ اے لوگو ! اپنے نبی سے دلائل اور معجزات کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ یہ قوم صالح ہے جس نے اپنے نبی سے یہ سوال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی نشانی بھیجے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اونٹنی بھیج دی۔(تفسیر ابن ابی حاتم ‘ رقم الحدیث : ١٥٨٦٦ )

حضرت ابو الطفیل (رض) بیان کرتے ہیں کہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا : اگر تم سچوں میں سے ہو تو (اپنی نبوت پر) کوئی نشانی لائو۔ تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : تم اس پہاڑ کی طرف جائو ‘ تو وہ پہاڑ اچانک حاملہ عورت کی طرح پھول گیا ‘ پھر وہ پہاڑ پھٹ گیا اور اس کے وسط سے اونٹنی نکلی۔ حضرت صالح نے ان سے فرمایا یہ اونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے۔ اس کو اللہ کی زمین میں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ دو ۔ (رقم الحدیث : ١٥٨٦٧ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اونٹنی بھیجی۔ وہ اپنی باری پر ان کے راستے سے اپنا پانی پیتی تھی۔ اور جتنا وہ لوگ اس کے ناغہ کے دن پانی پیتے تھے اس سے اس دن اتنا دودھ دوہ لیتے تھے۔ پھر وہ لوٹ جاتی تھی۔ (رقم الحدیث : ١٥٨٦٨ )

امام محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اونٹنی بظور نشانی نکالی تھی ‘ وہ قوم ثمود کی زمین میں درختوں کو چرتی تھی اور پانی پیتی تھی۔ حضرت صالح نے ان سے کہا یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے نشانی ہے ‘ اس کو اللہ کی زمین میں چرنے دو اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر بڑے دن کا عذاب آئے گا۔ (رقم الحدیث : ١٥٨٧٣)

حضرت عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قوم ثمود کے قبیلہ میں ابوزمعہ کی شکل کی طرح کا ایک شخص تھا ‘ وہ اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے اٹھا۔ (رقم الحدیث : ١٥٨٧٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 155