أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَـتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے لوط ! اگر آپ باز نہ آئے تو آپ ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو بستی سے نکال دیا گیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اے لوط ! اگر آپ باز نہ آئے تو آپ ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو بستیی سے نکال دیا گیا ہے۔ لوط نے کہا میں تمہارے کام کی وجہ سے سخت ناراض ہوں۔ اے میرے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کی بد کاریوں سے نجات دے دے۔ سو ہم نے ان کو اور ان کے تمام گھر والوں کو نجات دے دی۔ سو ایک بوڑھی عورت کے جو باقی رہنے والوں میں سے تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کی ‘ سو جن لوگوں کو عذاب سے ڈرایا جاچکا تھا ان پر وہ کیسی بری بارش تھی۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔ اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم مانے والا۔ (الشعراء : ١٧٥۔ ١٦٧ )

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی زبان درازی اور عذاب کا مستحق ہونا 

حضرت لوط (علیہ السلام) نے اہل سدوم کو ان کے برے اور سخت بےحیائی کے کاموں سے منع کیا تھا اور ان کو اس پر آخرت کے عذاب سے ڈرایا تھا۔ انہوں نے اس کے جواب میں حضرت لوط سے کہا کہ اگر آپ ہم کو منع کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ کا بہت برا حال کرکے ان شہروں سے آپ کو نکال دیں گے۔

حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا میں تمہارے ان برے کاموں کی وجہ سے تم سے سخت ناراض ہوں۔ اس آیت میں ناراض کے لئے القالین کا لفظ ہے۔ یہ قالی کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے بیزار ہونے والا ‘ سخت نفرت کرنے والا ‘ چھونے والا۔ قلت الناقۃ براکبھا اونٹنی نے اپنے سوار کو گرا دیا۔ یہ محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شخص نفرت اور بیزاری سے کسی چیز کو پھینک دے۔ قلی کا معنی پکانا اور بھوننا بھی ہے۔ شوربے والے سالن کو القلیہ کہتے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ رہنے کو ناپسند کیا اور ان کے قریب سے نجات حاصل کرنے میں رغبت کی۔ اس لئے انہوں نے اللہ عزوجل سے یہ دعا کی ‘ اے میرے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کی بد کاریوں سے نجات دے دے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا : سو ہم نے ان کو اور ان کے تمام گھر والوں کو نجات دے دی۔ یعنی ان کو اور ان کے گھر والوں کو عذاب نازل ہونے سے پہلے ان کے گھروں سے نکال لیا ‘ ماسوائے ایک بوڑھی عورت کے جس کا نام والھہ تھا۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی اور ان پر ایمان نہیں لائی تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی منکوحہ ہونے کے اعتبار سے اس کو آپ کے اہل میں شامل رکھا گیا۔ اس آیت میں اس کے لئے عجوز کا لفظ ہے۔ عجو زعاجز کا اسم مبالغہ ہے۔ اس کا معنی ہے بہت زیادہ عاجز ‘ چونکہ بوڑھی عورت کام کاج سے بہت زیادہ عاجز ہوتی ہے ‘ اس لئے اس کو عجوز کہا جاتا ہے۔ غابرین کے معنی ہے باقی رہنے والے اس کو ان لوگوں میں باقی رکھا گیا جن کو عذاب دیا گیا تھا کیونکہ یہ بھی قوم کی طرف مائل تھی اور ان کے افعال پر راضی تھی۔ آسمان سے برسنے والے پتھر اس پر بھی لگے۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں گئی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ باقی رہ گئی تھی جن پر عذاب آیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے متعلق قرآن مجید میں ایک اور جگہ ذکر ہے :

حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت اور اس کا عذاب 

ترجمہ (التحریم : ١٠)…اللہ نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں۔ پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ‘ پس وہ دونوں نیک بندے ان سے اللہ کے عذاب کو بالکل دور نہ کرسکے اور ان (عورتوں) سے کہا جائے گا ‘ اے عورتو ! تم دونوں بھی دوزخ میں داخل ہوجائو۔

اس آیت میں حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کی خیانت کا ذکر کیا گیا اس کی تفصیل یہ ہے :

امام ابو القاسم علی بن حسن بن ھبۃ اللہ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان عورتوں نے زنا نہیں کیا تھا لیکن حضرت نوح کی بیوی لوگوں کو جا کر یہ بتاتی تھی کہ حضرت نوح مجنوں اور دیوانے ہیں اور حضرت لوط کی بیوی لوگوں کو جا کر بتا دیتی تھی کہ آج حضرت لوط کے پاس مہمان آئے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اپنے گھر کی چھت پر چڑھی۔ اس نے اپنے کپڑے سے اشارہ کیا تو فاسق لوگ اس کے پاس بھاگتے ہوئے آئے اور اس سے پوچھا ‘ تمہارے پاس کوئی خبر ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! بیشک اللہ کی قسم ہمارے پاس ایسے حسین و جمیل مہمان آئے ہیں اور ان سے ایسی اچھی خوشبو آرہی ہے۔ میں نے ایسے لوگ ساری زندگی نہیں دیکھے۔

اشرف خراسانی بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔

(تاریخ دمشق الکبیر رقم الحدیث : ١١٧٢٢‘ ج ٥٣ ص ٢٤٥۔ ٢٤٤‘ ملتقطاً ‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

امام ابو القاسم علی بن الحسن بن ھبۃ اللہ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ وہ اس وقت کوئی کام کررہے تھے۔ انہوں نے کہا ہم آج رات آپ کے پاس مہمان رہیں گے۔ حضرت لوط ان کو ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ حضرت لوط نے راستہ میں ان کی طرف مڑ فرمایا : کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ اس بستی کے لوگ کس طرح کے کام کرتے ہیں ! تمام روئے زیمن میں ان سے زیادہ برے کام کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ حضرت لوط نے یہ بات ان سے تین بار کہی اور ان فرشتوں سے یہ کہا گیا تھا کہ ان کو اس وقت تک عذاب نہ دیں جب تک کہ تین بار ان کے خلاف شہادت نہ حاصل کرلیں۔ جب وہ فرشتے حضرت لوط کے گھر داخل ہوئے تو وہ کافرہ بوڑھی اپنی قوم کے پاس گئی اور ان کو حضرت لوط کے گھر کے دروازے پر لے آئی۔ ایک فرشتہ اٹھا اور اس نے پوری قوت کے ساتھ دروازہ کو بند کردیا۔ حضرت جبریل نے ان کو عذاب دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر حضرت جبریل نے ان کے اوپر اپنا پر مارا ‘ جس سے وہ اندھے ہوگئے اور انہوں نے بہت بری حالت میں رات گزاری۔ پھر فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا :

ترجمہ (ھود : ٨١)… فرشتوں نے کہا : اے لوط ! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آپ کے ہرگز نہیں بچ سکتے ‘ آپ رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں سے روانہ ہوجائیں اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے ‘ البتہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لیں۔ بیشک اس کو (بھی) وہی (عذاب) پہنچنے والا ہے جو انہیں پہنچے گا۔

قتادہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اس بوڑھی عورت نے ایک آواز سنی تو اس نے اس آواز کی طرف مڑ کر دیکھاتو اس کو ایک پتھر آ کر لگا ‘ وہ اس وقت اپنی قوم سے الگ جگہ پر تھی۔ قتادہ نے کہا ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت جبریل نے اس بستی کو درمیان سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کو آسمان کی طرف لے کر چڑھے ‘ حتیٰ کہ آسمان والوں نے اس بستی کے کتوں کی آوازیں سنیں۔ پھر حضرت جبریل نے اس بستی کو پلٹ دیا۔ اس کے اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا۔ پھر ان پر لگاتار پتھر برسائے۔ قتادہ نے کہا ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ان کی تعداد چار لاکھ تھی۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٥٣ ص ٢٤٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 167