أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

ثمود نے رسولوں کی تکذیب کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثمود نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جب ان سے ان کے ہم قبیلہ صالح نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس (تبلیغ دین) پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ‘ میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ (الشعرائ : ١٤٥۔ ١٤١ )

قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجنا 

انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے پانچواں قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے قبیلہ کا نام ثمود تھا۔ ان کا جداعلیٰ ثمود بن عبید بن عوص بن عاد بن ارم بن سام بن نوح تھا۔ ان کی قوم نے حضرت صالح کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ اس نے رسولوں کی تکذیب کی کیونکہ کسی ایک رسول کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔ تمام رسولوں کا ایک ہی مشن ہوتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جب ان سے ان کے ہم قبیلہ صالح نے کہا ‘ قرآن مجید میں ہے ‘ جب ان کے بھائی صالح نے کہا ‘ حضرت صالح ان کے دینی بھائی نہ تھے کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد کفر ‘ گناہ کبیرہ ‘ صغیرہ اور ہر قسم کے قابل ملامت کاموں سے مبرا اور منزہ ہوتے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں تاکہ ان کی امانت اور دیانت کی وجہ سے ان کی قوم ان کی رسالت کی تصدیق کرے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب یہ ہے : صالح بن عبید بن آصف بن کاشح بن حاذر بن ثمود (روح البیان ج ٦ ص ٣٨٦)

انہوں نے کہا تم کو معلوم ہے کہ میں امانتدار ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی اطاعت کرتا ہوں ‘ سو میں تم سے بھی کہتا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں جو تم کو نصیحت کررہا ہوں سو وہ کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نہیں کررہا ‘ میں اپنے اجر کو صرف اللہ عزوجل سے طلب کرتا ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 141