حدیث نمبر 483

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھے تو سولے ۱؎ حتی کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب کوئی اونگھتے نماز پڑھے گا تو نہیں جانے گا کہ شاید دعائے مغفرت کرے تو اپنے کو بددعا دے لے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ معلوم ہوا کہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۲؎ مثلًا اونگھتے ہوئے بجائے اِغْفِرْلِیْ کے اِعْفِرْلِیْ کہہ جائے غفر کے معنی ہیں بخشا،عفر کے معنی ہیں مٹی میں ملانا ،ذلیل و خوار کرنا اور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں کہ جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے اس لیئے بہت احتیاط چاہیئے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اونگھ جاتے ہیں انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگر ا س اونگھ کی وجہ سے نماز باجماعت نہ چھوڑنی چاہیئے،یہاں تہجد وغیرہ نوافل کے احکام بیان ہورہے ہیں۔