أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ۞

 ترجمہ:

بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا

اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم اور اس کے قہر و غلبہ کے آثار اور تقاضے 

اس کے بعد فرمایا : بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا۔ (الشعراء : ١٥٩ )

آپ کا رب ہی غالب ہے ‘ یعنی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی جو تکذیب تھی ان کا انتقام لینے کے لئے وہ بہت غالب ہے۔ پس اس نے ان کو عذاب میں مبتلا کرکے نیست و نابود کردیا اس لئے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں ‘ انہیں اس کے غضب سے ڈرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ بھی اسی عذاب میں نہ گرفتار ہوجائیں جس عذاب میں پچھلی تکذیب کرنے والی اقوام ہلاک ہوگئی تھیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ بہت رحم فرمانے والا ہے کہ وہ بغیر استحقاق کے عذاب نازل نہیں کرتا اور استحقاق ثابت ہونے کے بعد بھی توبہ کا موقع فراہم کرنے کے لئے ڈھیل دیتا رہتا ہے۔

یہ قرآن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا اور اس میں انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے قصص بیان کئے گئے تاکہ ہم ان واقعات سے عبرت حاصل کریں۔ سو جس نے اس قرآن کو چھوڑ دیا اور اس کے احکام پر عمل نہیں کیا اس کو کل آخرت کے دن افسوس اور ندامت ہوگی جب اس کو عذاب کا سامنا ہوگا سو انسان کو چاہیے کہ وہ ان مثالوں سے عبرت حاصل کرے اور ایمان لانے اور ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنے کو اپنے لئے باعث عار نہ بنائے اور نار کو اختیار نہ کرے۔

جو شخص بغور سننے والا ہو اور اس کا دل گداز ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی طرف متوجہ اور راغب ہوگا اور اللہ عزوجل کے جلال اور قہر سے خوف زدہ ہوگا اور دن اور رات کے اکثر اوقات میں اللہ جل شانہ کو یاد کرے گا اور خلوت اور جلوت میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرے گا۔

حکایت ہے کہ دوران سفر شبلی قدس سرہ نے ایک نوجوان کو دیکھا جو اللہ کا بہت ذکر کررہا تھا اور وہ اللہ اللہ کہہ رہا تھا ‘ شبلی نے کہا بغیر علم کے تمہیں اللہ اللہ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین بھی اللہ کو مانتے ہیں قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (الزخرف : ٨٧)… اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے۔

اس نوجوان نے پھر دس مرتبہ اللہ اللہ کہا اور بےہوش ہو کر گرگیا اور اس حالت میں اس کی جان نکل گئی۔ شبلی نے آکر دیکھا تو اس کا سینہ پھٹ چکا تھا اور اس کے جگر پر اللہ کا لفظ نقش تھا۔ پھر ایک منادی نے ندا کی۔ اے شبلی ! یہ محبین میں سے تھا اور محبین بہت کم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عارفین کے دلوں کو پیدا کیا اور ان کو معرفت اور یقین سے بھر دیا اور ان کی روح میں ذکر حق داخل کردیا ‘ جس طرح غافلوں کے دلوں میں نسیان کو پیدا کردیا اور ان کو ایسے کاموں پر اصرار کرنے میں رہنے دیا جس کی وجہ سے وہ جسمانی اور روحانی عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔ اول الذکر قلوب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں اور ثانی الذکر قلوب اللہ تعالیٰ کے قہر اور غلبہ کے آثار ہیں۔ پس اللہ کی طرف وہی ہدایت پاتے ہیں جو اس کے قرب اور وصال کے اھل ہوتے ہیں اور وہی لوگ اس کی راہ سے بھٹکتے ہیں جو اس کے قہر اور غضب کے مستحق ہوتے ہیں تو اس کریم اور رحیم سے ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اس بڑے دن کے عذاب سے محفوظ رکھے جس دن کوئی مال نفع دے گا نہ اولاد کسی کام آئے گی مگر وہ شخص جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر گیا ہو۔(روح البیان ج ٦ ص ٣٨٦۔ ٣٨٥‘ ملخصا ‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 159