أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ۞

ترجمہ:

بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا

پھر فرمایا بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے کہ وہ اپنے اور اپنے رسول کے دشمنوں سے انتقام لیتا ہے اور بہت رحم فرمانیوالا ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد فرماتا ہے اور کفار پر بھی بغیر تنبیہ کے عذاب نازل نہیں فرماتا اور ان کو ایمان لانے اور اصلاح کرنے کی مہلت دیتا ہے اور عذاب کے مستحقین کو عذاب دینا بھی صالحین کے اوپر اس کی رحمت کا کمال ہے ‘ کیونکہ جس کے کسی عضو میں ناسور ہوجائے تو اس عضو کو کاٹ دینا ہی پورے جسم کی صلاح کا ضامن ہے اور یہ جہان بھی ایک جسم کی طرح ہے اور کفار اس جہاں میں اس عضو کی طرح ہیں جس میں ناسور ہو تو ان کفار کو عذاب سے ہلاک کردینے میں پورے جہان کی سلامتی ہے اور اگر قہر اور غلبہ میں کوئی فائدہ نہ ہوتا تو حدود کو مشروع نہ کیا جاتا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فصلوں کی زرخیزی اور زرعی پیداوار کی بہتات سے زیادہ نفع حدود کے قائم کرنے میں ہے کیونکہ اگر نفاذ حدود کے ذریعہ معاصی ‘ فواحش اور جرائم کی روک تھام نہ کی جائے اور منکرات اور فواحش بڑھ جائیں تو پھر زمین میں پانی کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔ فصلیں ویران ہوجاتی ہیں اور رزق میں کمی ہوجاتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے مہاجرین کی جماعت ! جب تم پانچ چیزوں میں مبتلا ہو تو ان کو پانے سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ جب کسی قوم میں بےحیائی ظاہر ہو اور وہ اس کو کھلم کھلا کرنے لگیں تو ان میں طاعون پھیل جاتا ہے اور وہ ان امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہوئے نیک لوگوں میں نہیں تھے اور جو قوم ناپ اور تول میں کمی کرتی ہے وہ قحط سالی ‘ شدید محنت اور مشقت اور بادشاہ کے ظلم میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جو لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ دینے سے منع کرتے ہیں۔ ان سے آسمان کی بارش روک دی جاتی ہے اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش نہ ہوتی اور جو قوم اللہ اور اس کے رسول سے کئے ہوئے عہد کو توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے اوپر اغیار کو مسلط کردیتا ہے ‘ سو ان کی ساری پونجی کو وہ اغیار لوٹ کرلے جاتے ہیں اور جب تک مسلمانوں کے آئمہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے اور اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کو اختیار نہیں کریں گے تو اللہ ان کو آپس کی جنگوں میں مبتلا کردے گا۔ (اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں خالد بن یزید ضعیف راوی ہے لیکن اس کا مضمون صحیح ہے اور دیگر احادیث اس کی موید ہیں۔ ) (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١٩‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٣٣٤۔ ٣٣٢)

حضرت ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت ضرور خمر (انگور کی شراب) کا نام بدل کر اس کو پیتی رہے گی اور اس کے سروں پر آلات موسیقی بجتے رہیں گے اور گانے والیاں گاتی رہیں گی حتیٰ کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٨٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٠‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٤٢‘ سنن کبریٰ للبیہقی ج ٨ ص ٢٩٥‘ ج ١٠ ص ٢٣١)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میری امت پندرہ (قسم کے) کام کرے گی تو اس پر بلائیں اور مصائب نازل ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سے کام ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مال غنیمت کو (ذاتی) دولت بنا لیا جائے گا اور امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے گا اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جائے گا اور مرد اپنی بیوی کی اطاعت کرے گا اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا اور اپنے دوست کے ساتھ نیکی کرے گا اور باپ کے ساتھ بدی کرے گا اور مساجد میں شور کیا جائے گا اور ذیل آدمی کو قوم کا سردار بنادیا جائے گا اور کسی شخص کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے گی اور خمر (انگور کی شراب) پی جائے گی اور ریشم پہنا جائے گا اور اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو برا کہیں گے تو ان کاموں کے وقت سرخ آندھیوں اور زمین میں دھنسائے جانے اور مسخ کئے جانے کا انتظار کرو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٠‘ المسند الجامع رقم الحدیث : ١٠٣٨٦)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت کے لئے زمین میں دھنسنا اور مسخ کئے جانا اور آسمان سے پتھروں کا برسنا بھی ہوگا۔ ایک مسلمان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کب ہوگا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب گانے والیوں اور موسیقی کا ظہور ہوگا اور خمر (انگور کی شراب) پپی جائے گی۔ (اس حدیث کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٠٢٢ )

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمر میں صرف نیکی سے اضافہ ہوتا ہے اور تقدیر (معلق) کو صرف دعا ٹالتی ہے اور انسان گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٢ )

ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ فواحش ‘ منکرات اور جرائم کے ارتکاب سے بلائیں اور مصائب آتے ہیں۔ زمین میں دھنسنے ‘ مسخ کئے جانے اور رزق سے محرومی کے عذاب نازل ہوتے ہیں۔ اس لئے حدود اور تعزیرات کو مشروع کیا گیا تاکہ ان کے ڈر اور خوف سے لوگ جرائم سے باز رہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی سے بچے رہیں۔ اس لئے جرائم پر سزا دینا اور حدود کا نافذ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔

علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) نے فرمایا :

جو شخص ایسی جگہ میں رہے جہاں کوئی قاہر سلطان نہ ہو اور عادل قاضی نہ ہو اور طبیب عالم نہ ہو اور دکانیں و بازار نہ ہوں اور جاری دریا نہ ہو۔ اس نے اپنے نفس کو ‘ اپنے اہل کو ‘ اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو ضائع کردیا۔ پس عقل والے پر لازم ہے کہ وہ اپنی سفلی خواہش سے احتراز کرے اور اپنی بری عادات کو ترک کرے اور تمام حالات میں نرمی کے ساتھ اپنے نفس امارہ سے جہاد کرے۔(روح البیان ج ٦ ص ٣٨٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 175