أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَـنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور تم خوشی سے اتراتے ہوئے پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو

مشکل الفاظ کے معانی 

تنحتون : نحت کا معنی ہے تراشنا ‘ تنحتون : تم تراشتے ہو۔

فارھین : فرہ اگر یہ کرم کے باب سے ہو تو اس کا معنی ہے عقل والا ہونا کسی کام کا ماہر ہونا اور اگر یہ سمع کے باب سے ہو تو اس کا معنی ہے اترانا ‘ مٹک کر چلنا ‘ تکبر اور غرور کرنا۔ یہاں معنی ہے خوشی سے اتراتے ہوئے ‘ تکبر کرتے ہوئے یا اس کا معنی ہے تم بڑی مہارت سے پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٩٠‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

جسمانی اور روحانی لذتیں 

ان آیات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ھود کے اوپر عقلی اور معنوی لذات غالب تھیں کیونکہ وہ سربلندی کو ‘ ہمیشہ رہنے کو ‘ انفرادیت کو اور تکبر کو پسند کرتی تھی اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم پر حسی اور ظاہری لذات غالب تھیں کیونکہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو اور اچھی رہائش کو پسند کرتی تھی اور یہ اھل دنیا کی لذتوں میں سے لذتیں ہیں اور آخرت کی لذتیں ان تمام لذتوں سے بالاتر ہیں۔ یہ علوم اور معارف کی قلبی اور روحانی لذتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے ذکر و فکر کی لذتیں ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور وارفتگی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کی لذتیں ہیں ‘ جن میں ہر وقت یہ جی چاہتا ہے کہ انسان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنتوں میں جذب ہوجائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیکر میں ڈھل جائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 149