أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو۔ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا تم صرف ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کیا ہوا ہے۔ تم صرف ہماری مثل بشر ہو ‘ اگر تم سچوں میں سے ہو تو (اپنی نبوت پر) کوئی نشانی لائو۔ (الشعرائ : ١٥٤۔ ١٥١ )

فساد اور شر کی دو قسمیں 

حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا تم حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو ‘ یعنی جو لوگ دنیاوی لذتوں سے بہرہ اندوز ہونے میں ان کی طلب میں حد سے بڑھ چکے ہیں ‘ جن کو صرف کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنے کی ہی طلب ہوتی ہے اور اسی میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو اس کا کوئی خیال نہیں آتا کہ اگر زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور جنسی عمل کرنا ہی ہو تو پھر انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔ یہ لوگ اپنی ان خواہشوں کو ہر جائز اور ناجائز طریقے سے پورا کرتے ہیں اور حلال اور حرام کا کوئی فرق نہیں کرتے۔ اگر اپنی سفلی اور حیوانی خواہش کی تکمیل کے لئے چھیننا اور جھپٹنا پڑے اور اس سے بڑھ کر لڑنا ‘ جھگڑنا ‘ قتل اور خوں ریزی کرنا پڑے تو یہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس طرح وہ زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ؟ اگر یہ کہا جائے کہ جب یہ فرما دیا تھا کہ وہ زمین میں فساد کرتے ہیں تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ وہ اصلاح نہیں کرتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات فساد میں کسی نیکی اور خیر کا بھی پہلو ہوتا ہے ‘ جیسے کوئی آدمی رشوت لیتا ہے لیکن وہ رشوت لے کر حقدار کو اس کا حق دے دیتا ہے۔ رشوت لینا اگرچہ ناجائز کام ہے لیکن حقدار کو اس کا حق دلوا دینا بہر حال نیکی ہے۔ ہمارے دفاتر میں ایسا عموماً ہوتا ہے۔ کسی شخص کے بقایا جاتا محکمہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کی فائل متعلقہ افسر کے پاس دستخط کے لئے نہیں بھیجی جارہی یا کسی ٹھیکیدار کے بل پھنسے ہوئے ہیں اور کلرک اس کے بل پیش نہیں کرتا ‘ پھر رشوت لے کر یہ کام کردیتا ہے۔ پہرحال یہ ناجائز کام ہے لیکن اس میں نیکی اور خیر کا پہلو بھی ہے۔ لیکن اگر کوئی افسر رشوت لے کر کسی بےقصور کو سزا دلوا دے یا کوئی کلرک رشوت لے کر کسی حقدار کا حق اپنے کسی عزیز کو دلوا دے اور حقدار کو محروم کردے تو یہ ایسا ناجائز کام ہے جس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں ہے ‘ سو حضرت صالح علیبہ السلام کی قوم کے افراد کے افراد ایسا فساد کرتے تھے جس میں اصلاح نیکی اور خیر کا کوئی پہلو نہیں ہوتا تھا۔

حضرت صالح (علیہ السلام) سے دلیل کا مطالبہ 

حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم سے یہ کہا کہ تم حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو ‘ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے تو ان کی قوم نے جواب دیا : تم صرف ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادہ ہوا ہے۔ مسخر اس شخص کو کہتے ہیں جس پر بہت زیادہ جادو کیا گیا ہو حتیٰ کہ اس کی عقل بالکل مغلوب ہوجائے اور مسخر اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس کے پیٹ کے اوپر کا حصہ بھرا ہوا ہو ‘ یعنی تم ان لوگوں میں سے ہو جن کا کام صرف کھانا پینا ہوتا ہے۔

پھر انہوں نے کہا تم صرف ہماری مثل بشر ہو۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تم تو ہماری طرح ہو۔ تم نبی کس طرح ہوسکتے ہو ؟ ان کا یہ قول اسی طرح تھا جس طرح کفار ہمیشہ سے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق کہا کرتے تھے کہ اگر یہ اپنے دعویٰ نبوت میں سچے ہوتے تو فرشتوں کی جنس سے ہوتے اور اس قول کا دوسرا محمل یہ ہے کہ تم تو ہماری مثل بشر ہو ‘ پھر تمہیں اپنی نبوت کو ثابت کرنے لئے کوئی دلیل پیش کرنی چاہیے تھی۔ حضرت صالح السلام نے کہا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 151