حدیث نمبر 484

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دین آسان ہے ۱؎ اور کوئی دین کو سخت نہ بنائے گا مگر دین اس پر غالب آجائے گا۲؎ لہذا ٹھیک رہو خوش خبریاں دو۳؎ اور صبح شام اندھیری رات کی نمازوں سے مددلو ۴؎(بخاری)

شرح

۱؎ یعنی اسلام آسان دین ہے اس میں یہودیت کی طرح سختیاں نہیں کہ ان کے ہاں ترک دنیا عبادت تھی ہمارے ہاں دنیا داری بھی عبادت ہے کہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ،رب فرماتا ہے:”یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ”۔

۲؎ یعنی جو شخص غیر ضروری عبادت کو اپنے لیئے ضروری بنالے وہ مغلوب ہو کر تھک کر رہ جاوے گا اور پھر گنہگار ہوگا مثلًا کوئی عمر بھر روزے رکھنے کی نذر مان لے تو نہ کرسکے گا پھر اپنی نذر کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

۳؎ یعنی نیک اعمال کیئے جاؤ اﷲ سے قرب اختیار کرو اور لوگوں کو دین سے ڈراؤ نہیں بلکہ خوشخبریاں دے کر ادھر مائل کرو یا خود خوش و خرم رہو کہ اﷲ تعالٰی ہماری کو تاہیوں سے در گزر فرمائے گا،ہمیں اپنے فضل سے بخش دے گا، یعنی دوسروں کو خوشخبریاں دو یا خود خوشخبریاں لو۔

۴؎ اس طرح کہ صبح کو اشراق، شام کو اوابین، شب میں تہجد پڑھ لیا کرو اس سے سیرالی اﷲ میں تمہیں مدد ملے گی۔سالک کے لیئے یہ عمل اچھے معاون ہیں۔