کیا حضرت بی بی فاطمہ کی کنیت ام ابیھا نبی کریمﷺ یا اصحاب رسولﷺ سے ثابت ہے ؟

جن مورخین اور محدثین کی کتب سے انکا اس کنیت کو نقل کرنے کو بعض لوگ دلیل بنا رہے ہیں لیکن اس کے ماخذ کیا ہیں ؟

وہ درج ذیل دلائل ہیں :

امام طبرانی ایک روایت لاتے ہیں :

985 – حدثنا الحسين بن فهم، ثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال: «كنية فاطمة أم أبيها»

امام مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیھا تھی(معجم الکبیر طبرانی)

امام طبرانی کا یہ شیخ مجہول ہے

ایک عرب کے محقق نے کتاب لکھی ہے امام طبرانی کے شیوخ کے تراجم پر انہوں نے پہلے تو یہ لکھا ہے

کہ یہ سند میں نام میں غلطی ہے اصل نام حسن بن فھد ہے جو کہ امام طبرانی کا شیخ ہے

[*] الحسين بن فهم البغدادي.

صوابه الحسن بن فهد، وقد تقدم في الحسن بن أحمد بن فهد.

اوردوسری بات یہ مجہول ہے :

[350] الحسن بن أحمد بن فهد النرسي البغدادي.

حدث عن: إبراهيم بن سعيد الجوهري، وعبد الله بن عمر بن أبان.

وعنه: أبو القاسم الطبراني حديثًا واحدًا، في ” الصغير ” (1/ 225)، و” الأوسط ” (4/ 81)، و” مجمع البحرين ” (5/ 364)، وقد تابعه عليه البزار، كما في ” كشف الأستار ” (3/ 20)، ترجمه الخطيب وغيره، ولم يذكروا فيه جرحًا ولا تعديلا، وأخرج له الضياء.

تاريخ بغداد (7/ 267)، المختارة (6/ 62)، المشتبه (2/ 637)، توضيح المشتبه (9/ 59)، تكملة الإكمال (6/ 76).

قلت: (هو إلى مجهول أقرب، وقد يقال: مقبول لإخراج الضياء له).

(الكتاب: إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني

المؤلف: أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري) دوم: اگر یہ سند صحیح بھی مان لی جائے تو یہ قول زیادہ سے زیادہ امام صصعب کا ثابت ہوتا ہے جنکی وفات 231 سے 240ھ کے درمیان ہوئی

دوسری دلیل جو پیش ہوسکتی ہے وہ یہ ے

امام طبرانی دوسری روایت نقل کرتے ہیں :

988 – حدثنا محمد بن علي المديني فستقة قال: «وكانت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تكنى أم أبيها يقال كانت أصغر ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم من خديجة، ويقال بل كانت توأم عبد الله ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم»(معجم الکبیر طبرانی )

اس میں فقط محمد بن علی بن مدینی کا قول ہے جو امام علی بن مدینی کے بیٹے ہیں اور روایت کی سند نہیں

جیسا کہ اس کو نقل کرنے کے بعد امام ہیثمی مجمع الوائد میں فرماتے ہیں :

15225 – وعن محمد بن علي بن المديني ” فستقة ” قال: كانت فاطمة بنت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – تكنى: أم أبيها.

قال: كانت أصغر ولد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – من خديجة. وقيل: كانت توأم عبد الله ابن رسول الله – صلى الله عليه وسلم -. في الطبراني منقطع الإسناد.

(مجمع الزوئد)

تیسری دلیل جو بیان کی جاتی ہے جسکو امام بخاری نے بھی نقل کیا ہے

اور امام الغازلی الشافعی نے اسکو باسند بھی امام بخاری نے سے نقل کیا ہے امام ابن ابی شیبہ کے طریق سے

[168] كنيتها

392- أخبرنا أحمد بن محمد بن عبد الوهاب إذناً، أخبرنا أبو أحمد عمر بن عبد الله بن شوذب، حدثنا الحسن بن علي بن منصور، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا بعض أصحابنا عن كثير بن يزيد عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: كنية فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم: أم أبيها.(مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه ، المعروف بابن المغازلي (المتوفى: 483هـ)

اس کی سند مجہول ہے : اس میں بعض اصحاب کون ہیں امام ابن ابی شیبہ کے معلوم نہیں

اور کثیر بن یزید کا سماع بھی معلوم نہیں ثابت ہے امام جعفر صادق سے یا نہیں کیونکہ انکے شیوخ میں کسی نے امام جعفر کا نام نہیں لکھا ہے

تو ثابت یہ ہوا کہ کسی بھی سند صحیح سے یہ کنیت ثابت نہیں ہے نبی کریم ، یا اصحاب رسولﷺ سے

۲۰۰ھ کے بعد کے لوگوں سے یہ بات بغیر دلیل کے ملتی ہے جس سے بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ کنیت منسوب ہوئی ہے

جسکی وجہ سے مورخین و محدثین نے یہ کنیت لکھ دی مگر ثابت نہیں

جب یہ چیز ثابت نہیں اور آج کے پرفتن دور میں اس سے باطل مطلب نکالنے کا خطرہ عام ہو گیا ہے تو اس کنیت کو منسوب کرنے سے اجتناب کیا جائے

جسکی مثال پچھلے چند دن قبل سندھ اسمبلی میں کسی جاہل نے حضرت فاطمہ کو ام الانبیاء کہہ دیا

جبکہ کچھ ٹنی اور تفضیلی اس کنیت کو بیان کر کے یہ بھونڈی دلیل دے رہےہیں جب بی بی فاطمہ ام ابیھا ہو سکتی ہیں اور انکے والد امام الانبیاء ہیں تو وہ ام الانبیاء کیوں نہیں ہو سکتں ؟

جبکہ یہ باطل اور اہلسنت کے خلاف ہے

تحقیق دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی