حدیث نمبر 485

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اپنے وظیفے یا اس کے کچھ حصے سے سو جائے پھر فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے تو ایسا ہی لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ اس سے بعض علماء نے فرمایا کہ تہجد رہ گئی ہو تو دوپہر سے پہلے اتنے نفل پڑھ لے تو ان شاءاﷲ تہجد کا ثواب مل جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کا خلیفہ دن ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:”جَعَلَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَخِلْفَۃً”لہذا رات کے اعمال دن میں ہوسکتے ہیں،نیزدن کے اول حصہ پر رات کے بعض احکام جاری ہیں اسی لیئے نفل اور رمضان کے روزے کی نیت ضحوہ کبریٰ سے پہلے ہوسکتی ہے گویا اس نے رات سے ہی نیت کی۔(ازمرقاۃ وغیرہ)اسی طرح اگر دن کا وظیفہ رہ جائے تو رات میں ادا کرلے کیونکہ دن کا خلیفہ رات ہے۔(لمعات وغیرہ)