أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ ۞

ترجمہ:

کیا ان (کفار مکہ) کے لئے یہ کافی نشانی نہیں ہے کہ اس (قرآن) کو علماء بنی اسرائیل بھی جانتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ان (کفار مکہ) کے لئے یہ کافی نشانی نہیں ہے کہ اس (قرآن) کو علماء بنی اسرائیل بھی جانتے ہیں۔ اور اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر نازل کرتے۔ پھر وہ اس (قرآن) کو ان کے سامنے پڑھتا ‘ تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ (الشعرائ : ١٩٩۔ ١٩٧)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل 

الشعرائ : ١٩٧ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے صدق اور اس کے ثبوت پر دوسری دلیل قائم کی ہے اور اس کی تقریر یہ ہے کہ علماء بنی اسرائیل کی ایک جماعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لے آئی تھی اور انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ تورات اور انجیل کی فلاں فلاں آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت اور آپ کی نعت بیان کی گئی ہے اور مشرکین مکہ یہود کے پاس جاتے رہتے تھے اور ان کو یہ واقعہ معلوم تھا اور اس واقعہ میں آپ کی نبوت کے صدق پر واضح دلالت ہے کیونکہ آسمانی کتابوں کا آپ کی نبوت پر متفق ہونا آپ کی نبوت کے صدق پر قطعی دلیل ہے۔

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ‘ علماء بنی اسرائیل میں سے تھے اور ان میں سب سے افضل مانے جاتے تھے۔ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کتاب کے اوپر ایمان لے آئے تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : کیا ان (کفار مکہ) کے لئے یہ کافی نشانی نہیں ہے کہ اس (قرآن) کو علماء بنی اسرائیل بھی جانتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٠٣٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٩٥٩ )

امام عبدالرحمان بن محمد ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عطیہ نے کہا یہ بنی اسرائیل کے پانچ علماء تھے : حضرت اسد ‘ حضرت اسید ‘ حضرت ابن یامین ‘ حضرت ثعلبہ اور حضرت عبداللہ بن سلام۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ رقم الحدیث : ١٥٩٥٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

قتادہ نے کہا اس آیت سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں جو تورات اور انجیل میں یہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہیں۔(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٩٥٧ )

قرآن مجید میں جو لفظ علماء ہے یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جس کو یہود و نصاریٰ کی کتابوں کا علم ہو ‘ خواہ وہ اسلام لایا ہو یا اسلام نہ لایا ہو اور اہل کتاب کی شہادت مشرکین پر اس لئے حجت ہے کہ وہ اپنے دینی معاملات میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے تھے کیونکہ ان کے متعلق ان کا ظن غالب یہ تھا کہ ان کو دین کا علم ہے۔

اس آیت کا یہ معنی بھی ہے کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے اور اس کا ذکر سابقہ آسمانی کتابوں میں ہے کیا اس پر ایمان لانے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ‘ حضرت سلمان فارسی اور حضرت عدی بن ابی حاتم ‘ یہود و نصاریٰ کے ثقہ اور معتمد علماء میں سے ہیں اور وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے۔ روایت ہے کہ اہل مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس ایک وفد بھیجا اور ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور آپ کی بعثت کے متعلق سوال کیا تو علماء یہود نے کہا وہ اس زمانہ کے نبی ہیں اور ہم کو تورات میں ان کی نعت اور صفت معلوم ہے۔(روح البیان ج ٦ ص ٣٩٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 197