أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌ ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے

اس کے بعد فرمایا :

بے شک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے۔ (الشعرائ : ١٩٠)

یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کا جو قصہ ذکر کیا ہے اس میں عقل والوں کے لئے ضرور نشانی ہے اور اکثر اصحاب الایکہ ایمان لانے والے نہ تھے بلکہ کل اصحاب الایکہ ایمان لانے والے نہ تھے کیونکہ ان میں سے کسی شخص کا بھی ایمان لانا منقول نہیں ہے۔ (علامہ اسماعیل حقی کا یہ لکھنا قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت کے خلاف ہے۔ ) اس کے برخلاف اصحاب مدین میں سے ایک جماعت ایمان لے آئی تھی۔ (روح البیان ج ٦ ص ٣٩٢) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ دونوں امتوں میں سے نو سو نفر حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٣ ص ١٢٧ )

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 190